کیف/استنبول: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے استنبول میں روس کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی مذاکرات پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے کسی نتیجے کی امید باقی نہیں رہی۔
ان کے مطابق روس نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی وفد نے اگرچہ دوسرے مرحلے کے لیے اپنی ٹیم استنبول بھیج دی ہے، لیکن تاحال وہ کوئی ایسا میمو رنڈم پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جس میں جنگ بندی کی شرائط واضح ہوں۔یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے لیے ایک باضابطہ ایجنڈا کا ہونا ضروری ہے، اور مذاکرات میں سنجیدگی کے بغیر امن کی کوششیں ناکام ہی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے اب تک وہی پرانی شرائط دہرائی ہیں جو یوکرین پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔
زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا کہ وہ امن مذاکرات کو صرف وقت گزاری کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ میدانِ جنگ میں اپنے حملے تیز کر رہا ہے۔ ان کے بقول، روس کی نیت پر سوال اٹھانا اس وقت ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر دباؤ بڑھائے تاکہ وہ مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہو اور جنگ بندی کے لیے عملی اور قابل قبول تجاویز پیش کرے۔