28 فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کشیدہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور ان کے اقدامات تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ زیلنسکی کو امریکا کی مدد کے بغیر کمزور سمجھا جائے گا اور انہیں شکر گزار ہونا چاہیے۔اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکا کا شکریہ ادا نہیں کیا، جس پر زیلنسکی نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔تلخ کلامی کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس اور معدنی وسائل کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منسوخ کر دی گئی، اور زیلنسکی بغیر معاہدہ کیے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔
اس واقعے پر روس کے سابق صدر اور قومی سلامتی کے چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا کہ زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں زوردار تھپڑ لگا۔ یورپی یونین اور جرمنی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد دنیا کو ایک نئے رہنما کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں تناؤ کی نشاندہی کرتا ہے اور مستقبل میں امریکا-یوکرین تعلقات پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔