عالمی برادری سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کا نوٹس لے:اسحاق ڈار

 کشمیریوں کو استصواب رائے ملنے تک مسئلہ کشمیر تنازع بنا رہے گا، عالمی تنازعات خطے اور عالمی امن و استحکام  کے لئے خطرہ ہیں

موجودہ حالات میں سفارتکاری، ثالثی، مذاکرات اور عالمی تعاون ناگزیر ہے:نائب وزیر اعظم کا ہانگ کانگ   میں کنونشن سے خطاب
ہانگ کانگ(آئی این پی ) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ  کیا ہے ۔ہانگ کانگ میں  منعقدہ بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام سے متعلق کنونشن سے خطاب  کرتے ہوئے  اسحاق ڈار نے کہا   کہ ہمارے مشرقی پڑوسی نے حال میں بلا اشتعال اور غیر منصفانہ فوجی جارحیت کا مظاہرہ کیا، بھارتی اقدام سے جنوبی ایشیا کا امن خطرات سے دو چار ہوا۔ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کا معاملہ جنوبی ایشیا میں تنازع کی بنیاد ہے، لہذا اس تنازع کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق فوری حل کیا جائے۔ کشمیریوں کو استصواب رائے ملنے تک مسئلہ کشمیر تنازع بنا رہے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ عالمی تنازعات خطے اور عالمی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں، امن کیلئے سلامتی کونسل کی قردادوں اور عالمی قوانین پر عمل ضروری ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا خطے میں انتخابی سیاست کے حصول کیلئے عالمی امن کوداپر لگایا جارہاہے،بھارت کیجانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی خطرناک مثال قائم کررہی ہیں۔  اسحاق ڈار نے  مزید کہا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری، ثالثی، مذاکرات اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے قیام سے متعلق کنونشن پر دستخط بھی کر دیئے۔