سندھ طاس معاہدے کی معطلی تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے اسحا ق ڈار

 یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں، پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کیلئے پرعزم ہے ‘عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے  تعاون ناگزیر ہے
پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا،  افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی  کیلئے  استعمال نہیں ہونی چاہیے:نائب وزیر اعظم کا آسیان ریجنل فورم سے خطاب 
منیلا(آئی این پی )نائب وزیراعظم  وزیر ارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں، پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کیلئے  آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے  کو پرعزم ہے۔ان خیالات کااظہار اسحاق ڈار نے 33ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اسحاق ڈار نے  کہا کہ پاکستان نے منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر موثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، تاہم عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے ، پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے  اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کیلئے   فعال سفارتی کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں بھی سہولت کاری کی۔انہوں نے کاہ  پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے