بنگلہ دیشی جریدے دی مسلم ٹائمز کے مطابق پاکستان نے چار سالہ سفارتی کوششوں کے بعد افغانستان میں موجود دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائی کی۔
طالبان رجیم کے جارحانہ رویے اور عدم تعاون کی وجہ سے قطر اور ترکی کی ثالثی کی کوششیں ناکام رہیں۔ماہرین کے مطابق افغان سرزمین دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، اور طالبان کے پراکسی کردار کے ساتھ بھارت-اسرائیل تعلقات خطے میں طویل المدتی امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ افغانستان سے سرحد پار حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلح گروہوں کے لیے سازگار ماحول برقرار ہے۔