الیکشن کا فیصلہ بلٹ سے نہیں بیلٹ سے ہونا چاہیے‘ حق حاکمیت کا مطلب یہ ہے جس کے حق میں ووٹ ڈالا جائے اسی کا نکلے، کشمیریوں کو تمام حقوق دلوائیں گے
پنجاب‘سندھ‘بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں کشمیریوں کی نمائندگی ہونی چاہیے‘الیکشن کے بعد ایک آئینی کنونشن بلائیں گے‘ کشمیر کو پنجاب یا سندھ نہیں بلکہ کشمیر بنانا چاہتا ہوں
مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے الیکشن پر ڈاکہ ڈالا گیا تو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پی ٹی آئی والے بھی بائیکاٹ کی سیاست کو چھوڑیں۔ الیکشن کا فیصلہ بلٹ سے نہیں بیلٹ سے ہونا چاہیے۔ ووٹ کی چوری کو کسی صورت نہ چھپایا جائے۔انہوں نے کہا حق حاکمیت کا مطلب یہ ہے جس کے حق میں ووٹ ڈالا جائے اسی کا ووٹ نکلے، کشمیر میں امن اور انصاف دیکھنا چاہتا ہوں۔ کشمیریوں کو تمام حقوق دلوائیں گے، کشمیر کے فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی۔ الیکشن کے بعد ایک آئینی کنونشن بلائیں گے۔ جس میں حکومت، اپوزیشن، مہاجرین کے نمائندے، وکلا اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی شریک ہوں گے۔ مہاجرین کی حقیقی نمائندگی محفوظ رہنی چاہیے۔ آپ کو حق حاکمیت دلوانا چاہتا ہوں۔کشمیر کے مہاجرین کے مسائل ہیں، اگر ان کا ووٹ چوری ہوگا اور کسی کی جیب میں ہوگا تو ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔کشمیری مہاجرین ہمارے وجود، تاریخ اور تحریک کا حصہ ہیں، جن اداروں میں مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں، وہاں کشمیر کی کرسی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا میں کشمیر کو پنجاب یا سندھ نہیں بلکہ کشمیر بنانا چاہتا ہوں۔ کشمیریوں کو این ایف سی میں آبزرور اسٹیٹس دلانے کی کوشش کریں گے اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ آزاد کشمیر اسمبلی ٹروتھ کمیشن کی قرارداد منظور کر چکی ہے، اس لیے احتجاج کرنے والوں سے اپیل ہے کہ احتجاج ختم کرکے کمیشن کو قبول کریں