بحرین کی ہائی شریعت عدالت نے ایک شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد پانچ بچوں کی قانونی پدری حیثیت سے محروم کردیا، جب یہ ثابت ہوا کہ وہ ان بچوں کا حیاتیاتی والد ہی نہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس شخص کا نام تمام سرکاری ریکارڈ اور بچوں کی قانونی دستاویزات سے حذف کیا جائے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شوہر کو ایک طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں، جس کے بعد شک کی بنیاد پر کرائے گئے ڈی این اے ٹیسٹ نے واضح کردیا کہ بچوں سے اس کا کوئی حیاتیاتی تعلق نہیں۔مدعی کے وکیل ابتسام الصباغ نے کہا کہ یہ فیصلہ سچائی اور سائنسی ثبوتوں پر مبنی ہے۔ عدالت نے جعفری فقہ کے اصولوں کے تحت کہا کہ نکاح کی موجودگی یا اقرار پدری نسبت قائم کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ اصول ناقابل تردید سائنسی حقائق سے متصادم نہیں ہو سکتے۔عدالت نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت دی کہ ریکارڈ درست کیا جائے اور بچوں کی پدری حیثیت سے متعلق دستاویزات کو نئی حقیقت کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے۔