سندھ حکومت نے کراچی میں اعلانات کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے، منعم ظفر خان

سندھ حکومت نے کراچی میں اعلانات کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے، منعم ظفر خان

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے پریس کانفرنس میں سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ پر سخت تنقید کی۔

 ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اربوں روپے کے ترقیاتی پیکجز کے اعلان کے باوجود شہر کی اصل صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور یہ اعلانات محض کاغذی دعوے ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے موجودہ مسائل، جیسے کریم آباد انڈر پاس کی تاخیر اور ریڈ لائن منصوبے کی ناکامی، حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کے واضح شواہد ہیں۔ کریم آباد انڈر پاس تین سال میں مکمل نہیں ہوا، جبکہ اسلام آباد میں صرف 72 دن میں تین انڈر پاسز تعمیر ہو گئے۔ ریڈ لائن منصوبہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور اب تک تین افراد اس میں ہلاک ہو چکے ہیں۔انہوں نے سانحہ گل پلازہ کے بعد حکومتی بدانتظامی پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ شہداء کی باقیات ابھی تک مکمل طور پر ورثاء کو نہیں دی گئیں، جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد 87 بتائی گئی ہے، تاہم ڈی این اے کے ذریعے صرف 42 افراد کی باقیات لواحقین کو فراہم کی جا سکی ہیں۔منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ کراچی میں جان اور مال محفوظ نہیں ہیں، اور تمام محکمہ جات تباہ حال ہیں۔

 آگ بجھانے والے اداروں کے پاس مناسب لباس موجود نہیں، ریسکیو 1122 کے پاس آلات کی کمی تھی، جبکہ سول ڈیفنس اور پی ڈی ایم اے کی کارکردگی بھی تشویش ناک ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یکم فروری کو جماعت اسلامی کراچی کے تحت شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ منعقد کیا جائے گا، جس میں عوام کو حقوق کے لیے گھروں سے نکلنے کی اپیل کی جائے گی۔ اس موقع پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔منعم ظفر خان نے سندھ حکومت کے وزراء، خصوصاً مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب، کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سٹی کونسل میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کی بھی بات کی گئی۔