خیابان فردوسی نیاٹرنک سیوربچھانے کے منصوبے پرحفاظتی شیٹیں نہیں
شوق چوک تک 5فٹ گہری کھدائی ، وارننگ سائن بورڈ تک نہیں لگا
لاہور ( خصوصی رپورٹ)وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔بھاٹی گیٹ پر وقتی اقدامات کے سوا، لاہور کے دیگر علاقوں میں حفاظتی غفلت جوں کی توں برقرار ہے۔ روزنامہ دنیا سروے کے مطابق سانحہ بھاٹی گیٹ کے باوجود لاہور کے ترقیاتی اداروں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات صرف بھاٹی گیٹ تک محدود کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہر میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبے بدستور غیر محفوظ ہیں۔واسا کی جانب سے جوہر ٹا ئون کے مین بلیوارڈ خیابانِ فردوسی پر نیا ٹرنک سیور بچھانے کا کام جاری ہے۔ ایک ارب نوے کروڑ روپے کے اس بڑے منصوبے پر کہیں بھی حفاظتی شیٹیں نصب نہیں کی گئیں، جس سے شہریوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔اللہ ہو چوک سے شوق چوک تک پانچ سے چھ فٹ گہری کھدائی کی گئی ہے، مگر کھدائی کے دونوں اطراف نہ حفاظتی شیٹیں موجود ہیں، نہ حفاظتی ٹیپ اور نہ ہی کوئی وارننگ سائن بورڈ نصب کیا گیا ہے۔رات کے اوقات میں اس پورے علاقے میں سٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اندھیرے کے باعث راہگیروں اور گاڑیوں کے لیے حادثات کا خدشہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ترقیاتی کام کے دوران نکالے گئے سیور پائپس گرین بیلٹس میں پھینک دیے گئے ہیں، جہاں بھی کسی قسم کے حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے۔ یہ مناظر کسی نئے سانحہ کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیے جا رہے ہیں۔مین بلیوارڈ جوہر ٹا ئون پر حفاظتی غفلت اس سے قبل بھی سامنے آ چکی ہے۔ ناقص حفاظتی انتظامات پر پہلے ہی ڈائریکٹر واسا جوہر ٹا ئون کو معطل کیا جا چکا ہے، جبکہ سیکرٹری ہا ئوسنگ کی جانب سے واسا کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔تاہم شوکاز نوٹس اور معطلی کے باوجود فیلڈ میں کوئی عملی بہتری نظر نہیں آ سکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی غفلت آج بھی برقرار ہے اور لاہور کے ترقیاتی منصوبے شہریوں کی جانوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔