وفاقی حکومت کا 168 نامکمل ترقیاتی منصوبے بند کرنے کا فیصلہ

آئی ایم ایف کے مطالبے پر فیصلہ کیا گیا‘ نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر 300 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں‘مزید فنڈ جاری نہیں ہوں گے‘بعض منصوبے سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بند ہیں

 بعض ترقیاتی منصوبے قانونی مقدمات کے باعث طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں‘رائٹ سائزنگ سے متاثرہ سرکاری ملازمین  کوسرپلس پول میں بھیجا جائے گا
اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی حکومت نے 168 نامکمل ترقیاتی منصوبے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع  کا کہنا ہے   یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر کیا گیا اور ان منصوبوں کے لیے مزید فنڈز جاری نہیں ہوں گے۔اس حوالے سے وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 1.1 ٹریلین روپے ہے۔ وفاقی حکومت کا رائٹ سائزنگ سے متاثرہ سرکاری ملازمین کے لیے بڑا فیصلہ، سرپلس پول بھیجے جائیں گے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اب تک ان نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر 300 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔بعض منصوبے سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ترقیاتی منصوبے قانونی مقدمات کے باعث طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں۔وزارتوں نے جن منصوبوں کی نشاندہی کی تھی انہیں مکمل کرنا ترجیح ہے۔