پنجاب حکومت کی جانب سے شبِ برات کے موقع پر بدھ 4 فروری کو عام تعطیل دینے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
اگر حکومت باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے تو شہریوں کو ایک ساتھ مسلسل پانچ دن کی چھٹی مل سکتی ہے، جس سے سرکاری و نجی ادارے، تعلیمی ادارے اور کاروباری طبقہ خوش ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل تعطیلات سے نہ صرف مذہبی عبادات کے لیے وقت میسر آئے گا بلکہ اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے کا موقع بھی ملے گا، تاہم حتمی فیصلے کا انتظار جاری ہے۔یاد رہے کہ حکومتِ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر 6 فروری کو لاہور میں بسنت کے موقع پر مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے تاکہ شہری جشن میں بھرپور حصہ لے سکیں اور تقریبات کو محفوظ و منظم بنایا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد لاہور میں جمعرات، جمعہ، ہفتہ اور اتوار ملا کر چار روزہ تعطیلات ہوں گی، جس سے شہریوں کو ایک طویل ویک اینڈ میسر آئے گا۔ جمعرات، ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں پہلے سے طے تھیں، جبکہ جمعہ کو بھی صوبائی حکومت نے تعطیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بسنت کی تقریبات 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اہلخانہ کے ہمراہ منائی جائیں تاکہ تہوار کے دوران تحفظ اور نظم و ضبط یقینی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد بسنت کے دوران ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔