بلڈ کینسر کی ادویات بڑے ہسپتالوں میں نایاب

جکاوی اور وائٹ سیل کینسر کی گولی نیلوٹی نب مارکیٹ میں 8ہزار تک فروخت ، ، مریض پریشانی سے دوچار
لاہور( کرائم رپورٹر)پنجاب میں کینسر کے مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔بلڈ کینسر کی دونوں ادویات لاہور سمیت پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی بیماری میں اضافہ ہورہا ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں جنرل ادویات کی نایابی کے ساتھ جان بچانے والی کینسر کی ادویات بھی نایاب ہوگئی ہیں۔ ریڈ بلڈ سیل کینسر کے مریض نومبر 2025سے" جکاوی" اور وائٹ سیل کینسر کی گولی نیلوٹی نب کی سرکاری ہسپتالوں میں عدم دستیابی سے پریشان دکھائی دیتے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ایک گولی کی قیمت 6سے 8ہزار تک بلیک میں بیچی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب سی ایم ایل پراجیکٹ کے تحت فری کینسر ڈرگ سپلائی میں خلل دکھائی دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی سیمریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑی ہوئی ہیں اورسی ایم ایل پراجیکٹ میں تاخیر سے علاج رکنے کا خدشہ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر 2025سے اب تک سی ایم ایل پراجیکٹ کا ٹینڈر نا ہوسکا ہے۔ادویات کی بندش سے غریب مریض سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ علاج میں وقفہ مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے،بروقت دوا نہ ملنے سے کینسر کی بیماری بگڑنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔پنجاب کا ایم سی ایل پراجیکٹ انتظامی مسائل کا شکار ہے، کینسر ڈرگ پروگرام میں رکاوٹ، نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری جانب ترجمان محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ہمیں اس طری کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔