عشق کی کوئی سرحد نہیں

ملک محمد اسحاق
دنیا کی تاریخ اگر غور سے دیکھی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عشق نہ سرحدوں کا پابند رہا ہے اور نہ ہی وقت کی قید میں آیا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو کبھی تاج و تخت کو بے معنی بنا دیتی ہے اور کبھی عام انسانوں کو صدیوں تک زندہ رہنے والا حوالہ عطا کر دیتی ہے۔ عشق نے ہمیشہ طاقت، دولت اور اقتدار کو ثانوی حیثیت دی ہے اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے، ہر تہذیب اور ہر مذہب میں محبت کی کوئی نہ کوئی داستان انسانی حافظے کا حصہ بن چکی ہے۔ کہیں یہ داستان تخت سے دستبرداری کی صورت میں سامنے آئی، کہیں خاموش انتظار کی شکل میں، اور کہیں قربانی، وفا اور صبر کی مثال بن کر تاریخ میں ثبت ہو گئی۔

1936ء￿  میں برطانیہ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ ہشتم نے والِس سمپسن کی محبت میں اپنا تخت چھوڑ دیا۔ یہ کوئی افسانوی روایت نہیں بلکہ ایک مستند تاریخی حقیقت ہے۔ اس لمحے اقتدار نے پسپائی اختیار کی اور دل نے فیصلہ کیا۔ اسی طرح ناروے کے بادشاہ کنگ ہیرالڈ پنجم نے ایک عام عورت سونیا ہارلڈسن سے شادی کے لیے نو برس انتظار کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ محبت جلدی یا دباؤ کو قبول نہیں کرتی بلکہ استقامت اور صبر مانگتی ہے۔

مشرق میں، چین کے تانگ عہد میں شہنشاہ شوان زونگ اور یانگ گوئی فی کی محبت ایسی شاعری میں ڈھلی جسے آج بھی Song of Everlasting Regret کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقت، سیاست اور دربار بھی بعض اوقات انسانی جذبوں کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں۔

یورپ میں محبت کی بے شمار کہانیاں ملتی ہیں، مگر ایک نام صدیوں سے کافی ثابت ہوا: رومیو اور جولیٹ۔ یہ کہانی دراصل دو نوجوانوں کی نہیں بلکہ وراثتی نفرت اور سماجی ضد کی ناکامی کی داستان ہے۔ ان کی موت نے نسلوں کو یہ سبق دیا کہ جب محبت کو زبردستی قید کیا جائے تو انجام المیہ ہوتا ہے۔

ایشیا میں عشق ہمیشہ آزمائش کے ساتھ سامنے آیا۔ چین کی داستان لیانگ شانبو اور ڑو یِنگتائی بتاتی ہے کہ محبت جسمانی جدائی کے بعد بھی روحانی بقا اختیار کر سکتی ہے۔ جاپان کی شِنٹو روایت میں ایزانامی اور ایزاناگی محبت کو تخلیقِ کائنات کا سبب قرار دیتے ہیں، جہاں عشق فرد سے بڑھ کر کائناتی معنی اختیار کر لیتا ہے۔

برصغیر میں شاہجہان اور ممتاز محل کی محبت کو اکثر رومانوی مبالغے کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخی حقیقت زیادہ متوازن ہے۔ ممتاز محل کے انتقال (1631ء￿ ) کے بعد بھی شاہجہان نے سلطنت کے امور چلائے، ریاستی فیصلے کیے اور مغل اقتدار کو برقرار رکھا۔ مگر اس نے اپنی ذاتی محبت کو طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ ایک یادگار میں ڈھالا۔ تاج محل کسی فتح کا اعلان نہیں بلکہ ایک حکمران کے ضبط، غم اور وفا کی علامت ہے۔

پنجاب اور سندھ کی لوک روایات عشق کی زمینی مگر گہری صورتیں پیش کرتی ہیں۔ فرہاد نے شیرین کے لیے پہاڑ کاٹا۔ یہ دیوانگی نہیں بلکہ محبت کی محنت تھی۔ لیلیٰ اور مجنوں کی کہانی میں قیس کو دنیا نے مجنوں کہا، عشق نے نہیں۔ یہ لقب دراصل اس سماج کی بے سمجھی کی علامت ہے جو سچی محبت کو برداشت نہیں کر سکا۔

پنجاب کی روایت میں ہیر اور رانجھا کی محبت ذات، دولت اور شناخت سے انکار کا نام ہے۔ پنجابی لوک روایت کہتی ہے:
‘‘رانجھا رانجھا کردی، میں آپے رانجھا ہوئی’’
یہ انا کے خاتمے اور مکمل سپردگی کا اعلان ہے۔

سوہنی مہینوال کی داستان کا تعلق پنجاب کے گجرات / گوجرانوالہ ریجن سے ہے۔ سوہنی ہر رات دریائے چناب پار کرتی تھی۔ یہ نادانی نہیں بلکہ وفا کی انتہائی صورت تھی۔ سندھ میں سسی پنوں کی داستان استقامت اور تلاش کی علامت ہے۔ سسی نے ریگستان میں ننگے پاؤں سفر کیا اور جان دے دی، مگر محبت نہ چھوڑی۔ اسی طرح عمر ماروی کی کہانی رومان سے بڑھ کر وطن، عزت اور شناخت کی داستان ہے، جہاں ماروی نے محل، دولت اور اقتدار کو رد کر کے اپنی مٹی سے وفاداری نبھائی۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ عشق صرف مردوں کا امتحان نہیں رہا۔ سوہنی، سسی، ڑو یِنگتائی اور ممتاز محل ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عورتیں بھی محبت میں وہ سب کچھ کر گئیں جو ناقابلِ تصور تھا۔ان تمام معروف داستانوں کے درمیان لاکھوں بے نام محبتیں بھی ہیں جو کسی کتاب میں درج نہیں۔ وہ ماں باپ کی خاموش قربانیاں، وہ وفادار رشتے جو شور نہیں چاہتے، وہ انتظار جو کسی عنوان کا محتاج نہیں—یہی اصل سرمایہ ہیں۔
مذاہب کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، سکھ مت اور دیگر عقائد محبت کو رد نہیں کرتے بلکہ اسے اخلاق، آداب اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھالتے ہیں۔ ایک مسلمان، ایک پاکستانی اور متحدہ عرب امارات میں رہنے والے انسان کی حیثیت سے یہ کہنا ضروری ہے کہ اسلام میں محبت فحاشی نہیں بلکہ نیت، اخلاق اور جواب دہی سے جڑا ہوا جذبہ ہے۔

اسی لیے عشقِ حقیقی کا تصور ہمیں رابعہ بصری، آئمہ دین اور منصور حلاج جیسے ناموں تک لے جاتا ہے، جہاں محبت خدا کی طرف سفر بن جاتی ہے۔ اور پھر معراج کی رات آتی ہے، جہاں جبرائیل حد پر رک جاتے ہیں اور رسول اللہ  آگے بڑھتے ہیں۔ یہ طاقت کا سفر نہیں تھا بلکہ قرب کا سفر تھا۔

یہی پیغام ہے: عشق کی کوئی سرحد نہیں، کوئی حد نہیں۔
جب عشق سچا ہو تو وہ محل سے کائنات تک راستہ بنا لیتا ہے۔