سچا عشق حسین علی دا

 امجد علی
دس محرم، یومِ عاشور، جب بھی آتا ہے، 61 ہجری کے کربلا کے زخموں سے چور یادوں کو تازہ کر دیتا ہے۔
دریائے فرات کے کنارے وہ پیاس، وہ قربانی، اور وہ صداقت کا نعرہ آج بھی صدیاں کو چیرتا ہوا ہمارے کانوں کو تک رسائی کرتا ہے۔
دنیا نے ترقی کی، زمانے بدلتے رہے، سلطنتیں بنتی اور گرتی رہیں، مگر معرکہ حق و باطل روزِ اوّل سے موسیٰ و فرعون کی صورت مسلسل جاری ہے۔
یہ صرف تلواروں کی جنگ نہ تھی، یہ جنگ تھی تعارفِ الٰہ کی، کلمہ توحید کو دلوں میں بسانے کی، اور دینِ حق کی بقا کی۔
نمرود نے بھی ایک الاؤ جلایا تھا، ابراہیم نے جسے عشق الٰہی کی قوت سے پار کیا۔ اس آگ کے دریا میں ابراہیم نے یک جنبش چھلانگ لگا دی کوئی خوف، ڈر انکے چہرے پر یا نگاہوں میں شائبہ تک نہیں تھا۔ یہی تو عشقِ الٰہی کا وہ راز ہے جو عقل کو آج بھی حیران کیے ہوئے ہے:
 بے خطر کود پڑا آتشِ عشق میں خلیل
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
 اب یزید بن معاویہ خلافت پر موروثی قبضہ چاہتا تھا۔ امام حسین نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کی شخصیت، کردار، اور طرز حکومت اسلام کے اصولوں کے منافی تھی۔
کائنات کے وسیع کینوس پر صدیاں گواہ ہیں کہ حق و باطل کے معرکے مسلسل جاری رہے ہیں۔ مگر ان تمام معرکوں میں ایک معرکہ ایسا بھی تھا جو ازل کے نور اور ابد کے سرور کی گواہی بن کر اْبھرا کربلا۔
یہ معرکہ صرف میدان جنگ نہ تھا، بلکہ باطنِ الٰہی کا آئینہ تھا، جہاں حق ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہوا۔ اس بار جو حق کی تائید میں میدان میں اْترے، وہ کوئی عام سپاہی نہ تھے، وہ تھے نبی کریم  کے نواسے حسین جو لاڈلے، دلارے، اور گلشن زہراکے مہکتے پھول تھے۔
جن کی سواری وہ تھی جس کے لیے کائنات تخلیق ہوئی۔
یہ گھرانہ کوئی عام خاندان نہیں، یہ اہلِ بیتِ اطہار ہیں، وہ مقدس کنبہ جس پر اللہ کی نعمتیں اور رحمتیں لمحہ بہ لمحہ نازل ہوتی ہیں۔
قرآن نے جن کی طہارت کی گواہی دی، جن کی نسبت سے عرش لرزتا ہے، فرش سجتا ہے اور دل روشن ہوتے ہیں۔
پنجتن پاک کی ہر ہستی نورِ حق کی ایک مکمل تجلی ہے۔ ان کی حیات کا ہر پہلو انسانی کردار، صبر، تقویٰ، اور قربانی کا ابدی سبق ہے۔
امام حسن و حسین  کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ آسمانوں سے ان کے لیے جوڑے اترتے تھے۔ اگر بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ اتر سکتا ہے، تو رحمت اللعالمین  کے نواسوں کے لیے آسمانی عطائیں کیوں نہ ہوں؟
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان کی زندگی میں فقر و قناعت کا جمال تھا۔ حیرت انگیز طور پر ان کے دربارِ فقر سے کوئی سوالی خالی نہ گیا۔
یہی تو باطنی بادشاہی ہے جو بظاہر فقر میں ڈھلی ہو، مگر درحقیقت لایحتاج کی نشانی ہو۔
قربانی کا یہ سلسلہ حضرت ابراہیم سے شروع ہوتا ہے، جب انہوں نے خواب میں دیکھا کہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ حضرت اسماعیل نے اطاعت کی انتہا کر دی، اور اللہ نے جنت سے ایک عظیم جانور بھیج کر فدیہ مقرر فرما دیا۔
اسی قربانی کو قرآن نے "ذبح عظیم" کا لقب دیا، اور یہی ذبح عظیم، کربلا میں امام حسین کی قربانی کے ذریعے اپنی روحانی معراج کو پہنچا۔
اہلِ معرفت اور صوفیاء  کے نزدیک امام حسین  کی شہادت، ذبح عظیم کی باطنی تکمیل ہے ایک ایسی قربانی جو توحید، وفا، اطاعت، اور رضا کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔
یہ نکتہ بھی روحانی غور طلب ہے:
اگر حضرت اسماعیل کی ایڑی زمین پر مارنے سے چشمہ پھوٹ سکتا ہے،
اگر حضرت علی کا نیزہ پتھر میں یوں اْتر سکتا ہے جیسے وہ پانی ہو،
تو امام حسین  کے لیے پانی حاصل کرنا کیا مشکل تھا؟
یقیناً ہرگز نہیں۔
مگر پھر بھی پیاس؟ پھر بھی لب خاموش؟ کوئی دعا، کوئی فریاد، کوئی شکوہ تک نہیں؟
کیوں؟
اس کا جواب ہمیں عشق میں ملتا ہے اسی عشقِ رازدار میں جو عارفوں کے سلطان، حضرت سلطان باہو? نے دو مصرعوں میں بیان کر دیا:
 سچا عشق حسین  علی دا باہو
سر دیوے، پر راز نہ بھنے ہو
یعنی سچا عاشق وہی ہے جو محبوب کی راہ میں سر تو دے دے، مگر رازِ عشق کو افشا نہ کرے۔ امام حسین نے یہی تو کیا۔ ان کے پاس دعا تھی، کرامت تھی، آسمان کی تائید تھی۔ مگر خاموش رہے۔ پانی مانگا، مگر شکوہ نہ کیا۔ دوست و احباب قربان ہوتے گئے، مگر رازِ عشق کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا۔
یہی عشق ہے جو ابدی ہے
یہی خاموشی، سب سے بلند احتجاج ہے۔
کربلا میں سر کٹے، مگر اصول زندہ رہے۔
زبان بند رہی، مگر پیغام گونجتا رہا۔
خون بہا، مگر کردار امر ہو گیا۔
کیونکہ جو راز فاش ہو جائے، وہ راز نہیں رہتا۔
اور جو پردے میں رہے، وہی حسینیت بنتی ہے جو کبھی مٹتی نہیں، صرف دلوں میں اترتی ہے۔
یہ دو مصرعے پوری کربلا کا نچوڑ ہیں۔ حضرت سلطان باہو  فرماتے ہیں کہ سچا عاشق وہ ہے جو محبوب کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دے، مگر اس راہ کے رازوں کو فاش نہ کرے۔ امام حسین نے بھی تو یہی کیا ان کے پاس بیشمار اختیار تھے، دعا کا اثر تھا، آسمان کی تائید تھی، مگر لب خاموش رہے۔ پانی مانگا، مگر شکوہ نہ کیا۔ اپنی نظروں کے سامنے سب ساتھی قربان ہوئے، مگر راہِ وفا کی حکمت کسی پر آشکار نہ کی۔ زمین والوں کے ساتھ زمینی اصولوں سے جنگ کی، انہوں نے قربانی کو راز پر مقدم جانا  کیونکہ جو فاش ہو جائے، وہ راز نہیں رہتا؛ اور جو باقی رہے، وہی حسینیت کہلاتی ہے۔
کربلا میں صرف سر نہیں کٹے، راز حفاظت کی گئی۔ امام  نے ہمیں سکھایا کہ سچ پر قائم ہونا کتنا لازمی ہے، مگر بسا اوقات  خاموش رہ کر کچھ کر گذرنا، سچائی کی بلند ترین صدا بن جاتا ہے۔ یہ خاموشی، احتجاج سے زیادہ گونج رکھتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو صدیوں بعد بھی دنیا کو ہلا دیتا ہے۔
حضرت سلطان باہو کی یہ رمز آشنا فکر ہمیں بتاتی ہے کہ عشقِ حسین? صرف ماتم یا یادگاری کا نام نہیں، بلکہ ایک باطنی علم، ایک عقل سے ماوراء  آگہی اور عجز و وفا کا استعارہ ہے۔ حسینیت کبھی مر نہیں سکتی، یہ دلوں میں اترتی ہے گھر کر تی ہے۔ کربلا نے ہمیں سیکھایا کہ ظاہر نے 
تو مٹنا ہی ہے مگر اسے اگر راہ حق میں قربان کیا جائے تو یہ باطنی طور پر مقام امر پر فائز ہو جاتا ہے اس واقع میں یہی ہوا کہ وجود تو مٹے مگر اوصاف اور نام دائمی حیات پا گئے۔ یہ کونسی ہار ہے کہ آجںصدیوں بعد بھی ہرکس و ناکس انہی کے تذکرے کر رہا ہے  نہیں یہ ہار نہیں یہ تو بیمثل کامرانی ہے۔
چَراغ و مسجد و منبر سلام کہتے ہیں
نبی، رسول، پیغمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ، شبر سلام کہتے ہیں
خْدا گواہ کہ نانا ? سلام کہتے ہیں
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے
حسین تم کو زمان سلام کہتا ہے۔