پاکستان میں تاحال انسانوں یا جانوروں میں وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے داخلی مقامات پر مسافروں اور عملے کی سکریننگ جاری
وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کیلئے مرض کی تشخیص اور متاثرہ افراد کی آئسولیشن ضروری ہے
اسلام آباد(آئی این پی ) وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مارگلہ پہاڑیوں میں پھل خور چمگادڑوں کی موجودگی کے باعث نپاہ وائرس کے پھیلا ئو کے خدشے کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کی زیرِ صدارت نِپاہ وائرس سے متعلق ایک جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ملک میں وائرس کی ممکنہ منتقلی روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارت میں مشتبہ نِپاہ وائرس کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تاحال انسانوں یا جانوروں میں نِپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نِپاہ وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے داخلی مقامات پر مسافروں اور عملے کی اسکریننگ جاری ہے، اجلاس میں قومی ادارہ صحت اور بارڈر ہیلتھ سروسز کے سرویلنس اور اسکریننگ سسٹم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع وزارتِ صحت کے مطابق اجلاس میں وفاقی اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز اور دیگر حفاظتی تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نِپاہ وائرس پھل خور چمگادڑوں اور سور کے ذریعے پھیلتا ہے، جبکہ مارگلہ پہاڑیوں میں پھل خور چمگادڑوں کی موجودگی پائی جاتی ہے۔این آئی ایچ حکام کے مطابق ملک میں نِپاہ وائرس کی موجودگی یا پھیلا کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں اور مجموعی طور پر وائرس کے پھیلا کا خطرہ کم ہے۔ تاہم چمگادڑوں کی موجودگی کے باعث پھیلا ئو کے خدشے کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ذرائع کے مطابق نِپاہ وائرس کی تشخیص پی سی آر کٹس کے ذریعے ممکن ہے، تاہم اس کے علاج کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا اینٹی وائرل دوا دستیاب نہیں۔ماہرین نے زور دیا کہ نِپاہ وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کے لئے مرض کی فوری تشخیص اور متاثرہ افراد کی بروقت آئسولیشن نہایت ضروری ہے