ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں ہر 34 سیکنڈ میں ایک شخص دل کی بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دل کی بیماری امریکا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے، حالانکہ اس کی روک تھام ممکن ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے صدر کیتھ چرچ ویل نے کہا کہ یہ تشویشناک اعدادوشمار ہیں، اور ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہمارے قریبی عزیز اور دوست ہوسکتے ہیں۔تازہ اعدادوشمار کے مطابق 2022 میں 941,652 امریکی دل کی بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دل کی بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد کینسر، حادثات اور کورونا وائرس سے ہونے والی اموات سے بھی زیادہ تھی۔
کیتھ چرچ ویل نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں فالج پانچویں بڑی موت کی وجہ بن چکا ہے اور یہ دونوں بیماریاں مجموعی طور پر تمام اقسام کے کینسر اور حادثاتی اموات سے زیادہ جانی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ماہرین صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ متوازن خوراک، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنائیں تاکہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔