قیامت کی گھڑی 89 سیکنڈ پر برقرار، دنیا تباہی کے قریب

قیامت کی گھڑی 89 سیکنڈ پر برقرار، دنیا تباہی کے قریب

قیامت کی گھڑی (Doomsday Clock) جو دنیا کو لاحق تباہ کن خطرات کی علامت سمجھی جاتی ہے، 2024 میں 89 سیکنڈ پر برقرار رکھی گئی ہے، جو تاریخ میں سب سے کم وقت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا تباہی کے قریب تر پہنچ چکی ہے۔

اس گھڑی کا مقصد دنیا کے جوہری، موسمیاتی اور دیگر خطرات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ "آدھی رات" (Midnight) کا وقت مکمل تباہی کی علامت سمجھا جاتا ہے، یعنی اگر گھڑی رات 12 بجے تک پہنچ جائے، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کو کوئی سنگین حادثہ پیش آچکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 89 سیکنڈ کا وقت خطرات میں اضافے کی علامت ہے، جس کا بنیادی سبب روس-یوکرین جنگ، اسرائیل-فلسطین تنازع، موسمیاتی تبدیلی، اور مصنوعی ذہانت کے غیر منظم خطرات ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات بھی اس صورتحال میں اضافہ کر رہی ہیں۔یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر کے مطابق، "ہم نے گھڑی کو آدھی رات کے قریب رکھا ہے کیونکہ ہمیں ان عالمی چیلنجوں کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی جو انسانیت کو درپیش ہیں۔"

یہ گھڑی پہلی مرتبہ 1947 میں جوہری سائنسدانوں نے بنائی تھی تاکہ دنیا کو ان تباہ کن خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ 2023 میں یہ گھڑی 90 سیکنڈ پر رکھی گئی تھی اور 2024 میں مزید ایک سیکنڈ بڑھا کر اسے 89 سیکنڈ کیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر جنگوں، ماحولیاتی بحران اور ٹیکنالوجی کے غیر منظم خطرات کو قابو نہ کیا گیا تو یہ گھڑی مزید آگے بڑھ سکتی ہے، جس سے انسانیت کے لیے ایک نیا اور بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر مثبت اقدامات کیے گئے تو یہ گھڑی پیچھے بھی جا سکتی ہے، جیسا کہ 1991 میں امریکی اور سوویت یونین کے جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔یہ گھڑی صرف پیش گوئی نہیں کرتی، بلکہ انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ فوری طور پر بڑے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔