جہاں سے چلے وہیں کھڑے ہیں ریاست لاپتہ افراد کی بازیابی میں ناکام ہوگئی اسلام آباد ہائیکورٹ

یہ کیس تب ختم ہوگا جب تمام بندے بازیاب ہو جائیں گے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے یہ کیسز ملک کی بدنامی کا باعث ہیں
جبری گمشدہ افراد کمیشن کام نہیں کر رہا، وفاقی حکومت کچھ نہیں کر رہی پھر کسی نہ کسی نے تو دیکھنا ہے:جسٹس محسن اخترکیانی کے ریمارکس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ریاست لاپتا افراد کی بازیابی میں ناکام ہوگئی ہم جہاں سے چلے ہیں وہیں کھڑے ہیں، یہ کیس تب ختم ہوگا جب تمام بندے بازیاب ہوجائیں گے۔سلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر لارجر بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ میرا موقف تھا کہ خفیہ ایجنسیز کی کمیٹی ممبران کو اِن کیمرا بریفنگ کیلئے طلب کیا جائے،  میرے ساتھی ججز کا موقف تھا کہ پہلے وفاقی حکومت کو ایک موقع دینا چاہیے، جبری گمشدہ افراد انکوائری کمیشن کے سربراہ ہمارے جج تھے جو کہ انتقال کرگئے، جبری گمشدہ افراد کمیشن کام نہیں کر رہا، وفاقی حکومت کچھ نہیں کر رہی پھر کسی نہ کسی نے تو دیکھنا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جبری گمشدہ افراد کمیشن اگر کام نہیں کر رہا تو میرا خیال ہے اسے بند کر دیا جائے، کابینہ کی جو سب کمیٹی بنائی گئی اْس میں خفیہ اداروں کے لوگوں کو شامل ہی نہیں کیا گیا، میرے ساتھی ججوں کا موقف تھا کہ وفاقی کابینہ خفیہ ایجنسیز کو بلا کر خود پوچھے، یہ سب کام وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کر سکتے ہیں جو ہمارے سامنے نہیں ہیں۔