شہداء کے بچوں کی تعلیم، علاج اولین ترجیح، آئی جی پنجاب

لاہور(کرائم رپورٹر)سال 2025ء  پنجاب پولیس فورس اور ان کے اہلخانہ کے لیے ویلفیئر کا سال رہا، جس کے تحت پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مالی معاونت، طبی سہولیات اور دیگر مراعات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ سال 2025ء  میں پنجاب پولیس فورس اور اہلخانہ کی فلاح و بہبود پر 2 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی، اور یومیہ اوسطاً 2 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد رقم صرف کی گئی۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس ملازمین کے بچوں کو تعلیمی وظائف کی مد میں 59 کروڑ 95 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد رقم جاری کی گئی جبکہ شہداء  کے بچوں کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے فارن سکالرشپس کے لیے 1 کروڑ 15 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ پولیس ملازمین کی بیٹیوں کو ویڈنگ گفٹ کی مد میں 54 کروڑ روپے سے زائد رقوم دی گئیں اور سپاہ کے علاج معالجے کی سہولیات کے لیے 30 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی۔سیریبرل پالسی اور تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کے لیے 11 کروڑ 55 لاکھ روپے فراہم کیے گئے جبکہ پولیس شہداء  کے اہلخانہ کو 567 پلاٹس اور گھروں کی تعمیر کے لیے 2 کروڑ 75 لاکھ روپے دیے گئے۔ ریٹائرمنٹ گرانٹس کی مد میں 25 کروڑ 81 لاکھ روپے خرچ کیے گئے اور قوت سماعت سے محروم پولیس ملازمین کے 21 بچوں کے لیے کوکلیئر امپلانٹ سرجری کے لیے 3 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔گذارا الا ئونس کی مد میں 19 کروڑ 20 لاکھ روپے، تدفین اخراجات کے لیے 5 کروڑ 98 لاکھ روپے اور قانونی مدد کے لیے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ پولیس ملازمین اور اہلخانہ کے علاج اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 29 ہسپتالوں اور 13 تعلیمی اداروں کے ساتھ ایم او یوز سائن کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے شہداء  کے بچوں کا روشن مستقبل محکمہ کی اولین ترجیح ہے اور فورس کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں