پنجاب کو فریال تالپور کی تنظیمی قیادت کی ضرورت ہے؟

 رانا فاروق اشرف
پاکستان کی سیاست میں قیادت کا معیار صرف انتخابات جیتنا نہیں ہوتا بلکہ جماعت کو منظم رکھنا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اصل امتحان ہوتا ہے۔ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو نچلی سطح تک پارٹی کو فعال رکھے اور نظریاتی کارکنان کو اعتماد دے۔ بی بی فریال تالپور نے سندھ میں یہ کردار بخوبی نبھایا اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار دلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ آج پنجاب اسی قسم کی تنظیمی قیادت کا منتظر ہے۔
پنجاب، اپنی سیاسی اہمیت کے باوجود، اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کا کمزور ترین صوبہ بن چکا ہے۔ مسئلہ کارکنوں یا ووٹ بینک کی کمی نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری تنظیمی جمود ہے۔ سنٹرل پنجاب میں پارٹی سرگرمیاں زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود ہو چکی ہیں۔ جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب آتے ہیں تو پنجاب کی قیادت بظاہر فعال نظر آتی ہے، لیکن عملی سیاست میں پنجاب کی قیادت کی تنظیمی معاملات میں بالکل دلچسپی نہیں ہے۔ عہدے اور ذمہ داریاں اکثر ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، نہ کہ کارکردگی، کارکنوں سے رابطے یا علاقائی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھ کر۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ کارکن جو مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں۔ ان کی سیاسی صلاحیتیں، تجربہ اور نیٹ ورک استعمال میں نہیں لائے جا رہے، جس سے کارکنوں میں مایوسی اور بددلی بڑھ رہی ہے۔ اگر اس صورتحال میں بروقت اور سنجیدہ مداخلت نہ کی گئی تو پارٹی پنجاب میں مزید کمزور ہوتی جائے گی۔بی بی فریال تالپور کی اصل طاقت تقاریر نہیں بلکہ تنظیم سازی ہے۔ سندھ میں انہوں نے نہ صرف پارٹی کے ڈھانچے کو مستحکم رکھا بلکہ سخت سیاسی دباؤ کے باوجود تسلسل کو یقینی بنایا۔ آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے جو فیصلہ کن سیاسی پوزیشن ملی، وہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ مسلسل سیاسی رابطوں، مشاورت اور اتحاد سازی کا ثمر تھی، جس کی قیادت بی بی فریال تالپور نے اپنے بااعتماد ساتھی چودھری ریاض (فیصل آباد) کے ساتھ مل کر کی۔چودھری ریاض نے کشمیر میں پارٹی کو منظم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا اور پنجاب کی سیاست کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ پنجاب بھر میں پارٹی کارکنان، علاقائی قیادت اور بااثر سیاسی شخصیات کے ساتھ ان کے براہِ راست روابط ہیں، جو موجودہ پنجاب قیادت میں واضح طور پر نظر نہیں آتے۔ بی بی فریال تالپور اور چودھری ریاض کا امتزاج تنظیمی تجربے اور زمینی سیاست کا وہ توازن فراہم کر سکتا ہے جس کی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو شدید ضرورت ہے۔آج پنجاب کی سیاست میں بہت سے کارکن اور سیاسی شخصیات خاموشی سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ پارٹی میں مکمل طور پر آگے آنے سے اس لیے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں موجودہ پنجاب قیادت پر اعتماد نہیں کہ وہ ان کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔ یہ عدم اعتماد محض وقتی نہیں بلکہ ایک گہری تنظیمی کمزوری کی علامت ہے، جسے 
نمائشی سرگرمیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری بی بی فریال تالپور اور چہدری ریاض کو پنجاب کی تنظیمی ذمہ داری سونپتے ہیں تو یہ فیصلہ پارٹی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ پنجاب قومی اور صوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستوں والا صوبہ ہے، اور یہاں مضبوط تنظیم کے بغیر کوئی بھی قومی سیاسی مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نمائشی تنظیم نو نہیں بلکہ حقیقی تنظیم، مضبوط قیادت اور عملی سیاست کی ضرورت ہے۔ بی بی فریال تالپور اپنی صلاحیتیں پہلے ہی ثابت کر چکی ہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ پنجاب کو تنظیمی اصلاحات کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی قیادت بروقت فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔