پنجاب پولیس کی نئی قیادت، بسنت اور عوامی تحفظ

محمد ندیم بھٹی
پنجاب پولیس میں انسپکٹر جنرل کی تعیناتی کسی ایک افسر کی تقرری نہیں ھے بلکہ یہ فیصلہ صوبے کے مجموعی امن، قانون کی عمل داری اور شہریوں کے اعتماد سے براہِ راست جڑا ھوتا ھے۔ جب پنجاب جیسے بڑے اور گنجان آباد صوبے میں آئی جی کی تبدیلی ھوتی ھے تو اس کے اثرات صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی بازگشت محسوس کرتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ آئی جی کی تبدیلی اور نئے سربراہ کی تعیناتی ہمیشہ عوامی اور صحافتی حلقوں میں زیرِ بحث آتی ھے۔
سابق انسپکٹر جنرل کی تبدیلی کی وجوہات کسی ایک واقعے یا فیصلے  یا ان کے کام  می مخصوص حد  خاموشی تک محدود نہیں تھیں۔ صوبے میں بڑھتے ھوئے اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل اور موبائل فون چھیننے کے واقعات نے شہریوں کے احساسِ تحفظ کو  بھی متاثر کیا تھا۔ دوسری جانب حساس سیاسی حالات، احتجاجی مظاہرے، مذہبی اجتماعات اور بعض اہم مواقع پر پولیس کی غیر مؤثر حکمتِ عملی نے حکومتی سطح پر تشویش پیدا کی۔ پولیس فورس اگر بروقت، منظم اور واضح انداز میں نظر نہ آئے تو پھر قیادت پر سوالات اٹھنا ناگزیر ھو جاتے ھیں۔
یہ بھی حقیقت ھے کہ پنجاب پولیس طویل عرصے سے سیاسی دباؤ، سفارش، وسائل کی کمی اور اندرونی مسائل کا شکار ھے، مگر ان تمام عوامل کے باوجود پولیس کی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ھے کہ وہ ادارے کو فعال اور عوام دوست بنائے۔ جب یہ توقعات پوری نہ ھو سکیں تو قیادت میں تبدیلی ایک منطقی قدم بن جاتی ھے۔
ایسے نازک حالات میں نئے انسپکٹر جنرل راؤ عبدالکریم کی تعیناتی عمل میں آئی ھے۔ راؤ عبدالکریم ایک تجربہ کار اور پیشہ ور پولیس افسر سمجھے جاتے ھیں، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دی ھیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ھے کہ پنجاب پولیس کا سربراہ بننا کسی بھی افسر کے لیے سب سے بڑا امتحان ھوتا ھے، جہاں کارکردگی کا پیمانہ محض فائل ورک نہیں بلکہ سڑکوں پر نظر آنے والا امن ھوتا ھے۔
 اس وقت نئے آئی جی کے سامنے سب سے فوری اور بڑا چیلنج بسنت کا تہوار ھے جس خو ایک لمبے عرصے  کے بعد فعال  کیا گیا ھے اور جس کا دورانیہ  بھی زیادہ ھے۔ پنجاب خصوصاً لاھور میں ایکسٹرا گہما گہمی میں بسنت ایک تہوار سے بڑھ کر لا اینڈ آرڈر اور سیکورٹی کا مسئلہ  بھی بن چکی ھے۔ ماضی میں بسنت کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، دھاتی اور کیمیائی ڈور سے ہلاکتیں، ھوائی فائرنگ اور ٹریفک حادثات ایسے تلخ حقائق ھیں جو آج بھی عوامی یادداشت میں محفوظ ھیں۔
عدالتی پابندیوں اور حکومتی احکامات کے باوجود ہر سال بسنت کے موقع پر قانون شکنی دیکھنے میں آتی ھے۔ چھتوں پر ہجوم، سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ، موٹر سائیکل سواروں کے لیے جان لیوا ڈور اور پولیس کی محدود کارروائیاں اس سوال کو جنم دیتی ھیں کہ آیا ریاست واقعی اپنی رِٹ قائم کرنے میں سنجیدہ ھے یا نہیں۔
یہاں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کردار نہایت اہم ھے۔ کسی بھی صوبے میں لا اینڈ آرڈر کی بہتری صرف آئی جی کے فیصلوں سے ممکن نہیں ھوتی بلکہ 
اس کے لیے سیاسی قیادت کی واضح پالیسی، مکمل اعتماد اور غیر مشروط حمایت ضروری ھوتی ھے۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے امن و امان کے قیام کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ھے اور پولیس کو سیاسی مداخلت سے بچانے کے عزم کا اظہار بھی کیا ھے۔ اگر یہ عزم عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے تو پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ھے۔
بسنت کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ کی واضح ہدایات، زیرو ٹالرنس پالیسی اور براہِ راست نگرانی نئے آئی جی راؤ عبدالکریم کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ھے۔ جب سیاسی قیادت اور پولیس قیادت ایک صفحے پر ھوں تو فیلڈ میں تعینات افسران بھی سنجیدگی دکھاتے ھیں اور قانون شکنی کی حوصلہ شکنی ھوتی ھے۔
بسنت کے دوران جرائم پیشہ عناصر بھی متحرک ھو جاتے ھیں۔ جیب تراشی، ڈکیتی، خواتین کو ہراساں کرنا اور منشیات کی فروخت جیسے جرائم میں اضافہ ھو جاتا ھے۔ ایسے میں پولیس کی ذمہ داری دوگنی ھو جاتی ھے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ھیں کہ پولیس محض ناکے لگانے تک محدود ھے یا واقعی شہریوں کے تحفظ کے لیے متحرک ھے۔
نئے آئی جی کی کامیابی اس بات سے بھی مشروط ھے کہ وہ تھانوں کی سطح پر نظم و ضبط قائم کر پاتے ھیں یا نہیں۔ ایس ایچ او کلچر، سیاسی سفارش اور کمزور احتساب پنجاب پولیس کے وہ مسائل ھیں جن پر قابو پائے بغیر کوئی اصلاح ممکن نہیں۔ اگر راؤ عبدالکریم میرٹ، شفافیت اور سخت احتساب کو یقینی بناتے ھیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ھو گی۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب اگر اس عمل میں پولیس قیادت کو مکمل تحفظ فراہم کریں اور غیر ضروری دباؤ سے دور رکھیں تو اس کے نتائج جلد سامنے آ سکتے ھیں۔ پولیس افسران کو یہ اعتماد ملنا ضروری ھے کہ قانون پر عمل درآمد کے دوران ان کی پشت پر ریاست کھڑی ھے۔
جدید دور میں پولیسنگ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر نامکمل ھے۔ سیف سٹی کیمرے، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس سسٹم بسنت جیسے مواقع پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ھیں۔ ان سہولیات کا مؤثر استعمال وزیرِ اعلیٰ اور آئی جی دونوں کی سنجیدگی کا عملی ثبوت بن سکتا ھے۔
میں یہ بھی  کہ  سکتا  ھوں کہ پنجاب پولیس کے نئے انسپکٹر جنرل راؤ عبدالکریم کے سامنے چیلنجز یقیناً بڑے ھیں، مگر اگر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا سیاسی وژن، واضح پالیسی اور عملی حمایت ان کے ساتھ رھی تو یہ مشکلات  بہتر  معاشرتی مواقع میں بدل سکتی ھیں۔ بسنت ان کے لیے پہلا بڑا امتحان ھے۔ اگر اس موقع پر قانون کی عمل داری، شہریوں کا تحفظ اور ریاست کی رِٹ قائم ھو گئی تو یہ نہ صرف پولیس بلکہ حکومتِ پنجاب کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ھو گا، اور اگر ماضی کی روایتی غفلت دہرائی گئی تو پھر سوال صرف ایک افسر یا ایک ادارے پر نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی پر اٹھے گا۔