عدالتی فیسوں اور جرمانوں کی ادائیگی ڈیجیٹل کر دی گئی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سسٹم کا افتتاح کردیا

سامان کی وصولی سے لے کر دفاتر تک فراہمی کے تمام مراحل خودکار ہوں گے‘ میعاد ختم ہونے سے پہلے سسٹم خودکار الرٹس جاری کرے گا
قیمتی سرکاری سامان کے ضائع ہونے سے بچائو ممکن ہوگا ‘ ناکارہ یا خراب سامان کی واپسی کا مکمل ریکارڈ بھی برقرار رہے گا، فراڈ کے امکانات ختم 
لاہور(آئی این پی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے وکلا اور سائلین کا دیرینہ مطالبہ پورا  کرتے ہوئے  ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا جس کے تحت اب سول کورٹس اکائو نٹس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے عدالتی فیسوں اور جرمانوں کی ادائیگی مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دی گئی، جس سے فراڈ کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔عدالتی واجبات کی ادائیگی اب براہِ راست نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ہوگی جبکہ چالان فارم ڈیجیٹل سسٹمز کے تحت 32-A کا اجرا خودکار طریقے سے PSID کے ذریعے ہوگا، تمام جوڈیشل افسروں کو مخصوص رسائی دی گئی ہے، تمام مالیاتی آرڈرز آن لائن ہوں گے اور نیشنل بینک کے ساتھ منسلک نظام فوری تصدیق کو ممکن بناتا ہے۔عدالتی جرمانوں کا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا، مستقبل میں اس سسٹم کو اکانٹنٹ جنرل آفس کے ساتھ لنک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، نئے متعارف شدہ جوڈیشل ڈپازٹس اور سیکیورٹیز سافٹ ویئر کے ذریعے بینکوں میں جمع عدالتی رقوم اور سیکیورٹیز کی نگرانی ہوگی، ہر عدالتی برانچ اپنے اکانٹس کا الگ ریکارڈ رکھ سکے گی جبکہ مجموعی ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا، جس سے غلطیوں کے امکانات ختم ہوں گے اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔بینکنگ اینڈ فنڈز مینجمنٹ ونگ اب اکائونٹس کی موثر نگرانی کر سکے گا، جدید انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے عدالتی سٹورز اور سٹاک کی نگرانی بھی ڈیجیٹل ہوگئی ہے، سامان کی وصولی سے لے کر دفاتر تک فراہمی کے تمام مراحل اب خودکار ہیں اور میعاد ختم ہونے سے پہلے سسٹم خودکار الرٹس جاری کرے گا، اس سے قیمتی سرکاری سامان کے ضائع ہونے سے بچائو ممکن ہوگا اور ناکارہ یا خراب سامان کی واپسی کا مکمل ریکارڈ بھی برقرار رہے گا۔