کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: سولرائزیشن پروگرام کی درخواستوں کی وصولی میں توسیع

کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: سولرائزیشن پروگرام کی درخواستوں کی وصولی میں توسیع

لاہور:کاشتکاروں کے لیے ایک بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے سولرائزیشن پروگرام کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں 6 جنوری 2025 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

 یہ فیصلہ زراعت ہاؤس لاہور میں سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں پروگرام کی تفصیلات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

سولرائزیشن پروگرام کی تفصیلات
سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ اس منصوبے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اربوں روپے کی لاگت سے عملدرآمد ہو رہا ہے۔پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 10، 15 اور 20 کلو واٹ کے سولر سسٹمز پر بالترتیب 5 لاکھ، 7.5 لاکھ، اور 10 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔اس منصوبے کے تحت 8,000 زرعی ٹیوب ویلز، جو پہلے بجلی اور ڈیزل پر انحصار کرتے تھے، شمسی توانائی پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔
کسان کارڈ کا استعمال
سیکرٹری زراعت نے کسان کارڈ کے حوالے سے بھی اہم معلومات فراہم کیں:13 لاکھ 40 ہزار کاشتکار اب تک کسان کارڈ کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔مجموعی طور پر 5 لاکھ 13 ہزار کسان کارڈ فیلڈ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری سے کسان کارڈ کے تحت 53 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 32 ارب روپے کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔کسان کارڈ سے کی جانے والی خریداری کا 90 فیصد حصہ کھاد کی خریداری کے لیے استعمال ہوا ہے۔
کاشتکاروں کے لیے فوائد
سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو نے اس پروگرام کو کاشتکاروں کی مالی حالت بہتر بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سولرائزیشن پروگرام نہ صرف توانائی کے اخراجات کو کم کرے گا بلکہ کاشتکاروں کو جدید اور مستحکم توانائی کے ذرائع سے جوڑے گا، جس سے زرعی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔یہ اقدام پنجاب حکومت کی زراعت کے شعبے میں جدت اور پائیداری لانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو کاشتکاروں کو عالمی معیار کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔