پنجاب میں 12,000 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا ریکارڈ قائم کیا جا رہا ہے، جس میں 460 سڑکوں کی تعمیر، توسیع اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں اس ترقیاتی کام پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی، جس میں آئندہ مالی سال میں انٹر ڈسٹرکٹ اور انٹر ویلج روڈز کی تعمیر و بحالی کی تجویز پیش کی گئی۔
سڑکوں کی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ: وزیراعلیٰ نے اجلاس میں روڈ پراجیکٹس کی ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے ہر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کے روڈ پراجیکٹس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران اہم منصوبوں کی تکمیل کا ذکر کیا گیا، جن میں قائداعظم انٹرچینج تا واہگہ بارڈر روڈ کی تعمیر، ملتان وہاڑی دو رویہ روڈ پراجیکٹ کی ایکنک سے منظوری اور مری کی سڑکوں کی بحالی کے مکمل پراجیکٹس شامل ہیں۔
کرتار پور راہداری اور دیگر اہم منصوبے: کرتار پور راہداری کے پراجیکٹ میں شکرگڑھ روڈ کی تکمیل اور مریدکے نارووال روڈ کی تعمیر جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام منصوبوں میں تیزی سے کام جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ روڈ سائیڈ کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے باقاعدہ بائی لاز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
نئے منصوبے اور مستقبل کی ترجیحات: اجلاس میں لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ کے ساڑھے 18 کلومیٹر روڈ پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، لیہ اور بھکر کو موٹروے سے جوڑنے کے لیے ایکسپریس وے پراجیکٹ کے لیے فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹ طلب کر لی گئی۔ وزیراعلیٰ نے روڈز کی عمومی چوڑائی 12 فٹ رکھنے کی تجویز پر اتفاق کیا تاکہ سڑکوں کی معیار اور حفاظت میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایات: وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام پراجیکٹس کو عوامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیح دینے کی ہدایت دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان منصوبوں کا مقصد عوام کی سہولت اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔