کراچی: معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کی دوسری شادی کے حوالے سے معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی خاتون دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے تو اسے منفی یا معیوب نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ایک ویڈیو پیغام میں حمزہ علی عباسی نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں ایک مخصوص طبقہ ایسا ہے جو بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین، خصوصاً ان خواتین کی دوسری شادی کو ناپسندیدہ سمجھتا ہے جن کے بچے بھی ہوں۔ ان کے مطابق بعض لوگ ایسی خواتین کے ذاتی فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حمزہ علی عباسی نے واضح کیا کہ کسی شخص کی دوسری شادی کا فیصلہ مکمل طور پر اس کی اپنی مرضی اور ذاتی معاملہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یا نہیں کرنا چاہتا، یہ فیصلہ اسی شخص کو کرنے دینا چاہیے اور دوسروں کو اس معاملے میں غیر ضروری مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔اداکار نے خاص طور پر ان خواتین کے حوالے سے معاشرے سے رویہ تبدیل کرنے کی اپیل کی جو طلاق یا بیوگی کے بعد دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خواتین کو منفی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دوبارہ شادی کرنا خواتین کا حق ہے جو انہیں دین نے دیا ہے، اس لیے معاشرے کو کسی خاتون کے اس حق کو محدود کرنے یا اس کے فیصلے پر سوال اٹھانے کے بجائے اسے اپنی زندگی کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔حمزہ علی عباسی نے مزید کہا کہ کسی انسان کی ذاتی زندگی کے فیصلوں میں بلاوجہ مداخلت کرنا اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی زندگی کے حوالے سے ایک جائز اور ذاتی فیصلہ کرنا چاہتا ہے تو معاشرے کے دیگر افراد کو اس فیصلے میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔اداکار کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی گفتگو کو جنم دیا، جہاں صارفین نے بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کے حوالے سے معاشرتی رویوں، دوسری شادی اور ذاتی آزادی پر مختلف آرا کا اظہار کیا۔
حمزہ علی عباسی کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شادی، طلاق یا دوبارہ شادی جیسے ذاتی معاملات میں معاشرتی دباؤ اور غیر ضروری تنقید کے بجائے فرد کی رضامندی، عزت اور حقِ انتخاب کا احترام کیا جانا چاہیے۔