واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور وینزویلا کے درمیان ایک بڑے تیل معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکی نجی شعبے کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر سے منسلک منصوبوں میں اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا۔رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا مقصد وینزویلا کے تیل کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنا، پرانے انفراسٹرکچر کو جدید بنانا اور امریکا کے لیے خام تیل کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانا ہے۔ وینزویلا کے عبوری حکام کے مطابق منصوبے میں 17 اہم آئل فیلڈز کی ترقی شامل ہے، جبکہ اس شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ وینزویلا کو طویل مدت میں 209 ارب ڈالر سے زائد ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا اندازہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے سے امریکی تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملک میں خام تیل کی دستیابی بڑھنے کے نتیجے میں مستقبل میں پٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی آسکتی ہے۔ تاہم توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کا تیل کا بنیادی ڈھانچہ طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے، اس لیے اضافی پیداوار اور اس کے عالمی مارکیٹ پر اثرات فوری طور پر سامنے آنا مشکل ہیں۔امریکی صدر کے مطابق معاہدے کی تشکیل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے اہم کردار ادا کیا۔ وینزویلا کی جانب سے بھی معاہدے کو ملکی معیشت کی بحالی اور تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس معاہدے کے بعض قانونی، سیاسی اور معاشی پہلو اب بھی واضح ہونا باقی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، سیاسی استحکام اور طویل مدتی قانونی تحفظ انتہائی اہم ہوں گے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ نئے منصوبوں سے بڑے پیمانے پر تیل کی پیداوار عملی طور پر کتنی تیزی سے شروع ہو سکے گی۔تازہ پیش رفت میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والا تیل امریکا کے Strategic Petroleum Reserve کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امریکی اسٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ عرصے میں نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں اور تقریباً 290 ملین بیرل کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔یوں یہ معاہدہ صرف ایک تجارتی تیل منصوبہ نہیں بلکہ امریکا کی توانائی پالیسی، وینزویلا کی معاشی بحالی اور دونوں ممالک کے بدلتے سیاسی تعلقات کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس معاہدے کے حقیقی معاشی فوائد اور امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں پر اثرات کا اندازہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب سرمایہ کاری، پیداوار اور تیل کی ترسیل کے عملی مراحل آگے بڑھیں گے۔