لبنان کی صورتحال پر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت ردعمل، طاقتوں سے امیدیں باندھنے والوں کو خبردار کردیا

لبنان کی صورتحال پر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت ردعمل، طاقتوں سے امیدیں باندھنے والوں کو خبردار کردیا

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو بڑی طاقتوں کے وعدوں پر امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان کے موجودہ حالات نے ان لوگوں کو ذلت سے دوچار کیا ہے جنہوں نے بالادست طاقتوں کے جھوٹے وعدوں پر اپنی امیدیں قائم کر رکھی تھیں۔ ان کے بیان میں کسی ملک یا حکومت کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جاری کشیدگی سمیت خطے میں وسیع تر تنازعات سے متاثر ہے۔ایران نے طویل عرصے سے حزب اللہ کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے، جبکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کی صورتحال بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان وسیع تر کشیدگی سے جڑی ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ قطر سمیت بعض ممالک دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔مجتبیٰ خامنہ ای اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز اور خطے میں جاری تنازع کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ 28 ستمبر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فورسز کی کارروائیوں کے بعد مخالف قوتیں بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتیں۔