مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر، ملک میں خوشی کی لہر

مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر، ملک میں خوشی کی لہر

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیے جانے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

تہران سمیت کئی شہروں میں شہری قومی پرچم اور مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور نئے رہنما کے حق میں جشن منایا۔ لوگوں نے ان کی تصاویر پر پھول نچھاور کر کے اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا۔دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ادھر علی لاریجانی، جو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ہیں، نے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں نیا سپریم لیڈر ملک کی مؤثر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دھمکیوں کے باوجود جانشین کے انتخاب پر مجلسِ خبرگان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ایران کے دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر کی حمایت کریں۔اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مجلسِ خبرگان کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کی پیروی کرنا ایرانی عوام کا مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔

علی لاریجانی نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک نئے رہنما کے گرد اتحاد قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو امید تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران قیادت کے بحران کا شکار ہو جائے گا، تاہم مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایرانی میزائلوں کی حد تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک محدود ہے اور ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس یا شواہد موجود نہیں کہ ایرانی میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ صرف ایرانی عوام کے منتخب ادارے ہی کریں گے۔