خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے خلاف عدم اعتماد کے ماحول میں صوبائی کابینہ کے دو اہم وزرا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے تعلیم فیصل خان ترکئی اور وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے بطور احتجاج کابینہ سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں وزرا نے اپنے استعفے وزیر اعلیٰ کو ارسال کر دیے ہیں۔استعفیٰ میں دونوں وزرا نے کہا کہ وہ بطور وزرا عمران خان کے مشن اور ویژن کے مطابق کام کرتے رہے اور اپنی وابستگی ہمیشہ عمران خان کے ساتھ رہی ہے۔ تاہم، علی امین گنڈا پور کے ساتھ مزید کام کرنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دیا۔
وزرا نے کہا کہ صوبہ میں کرپشن کا بازار گرم ہے اور علی امین کے فیصلوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کی قیادت صوبے بھر میں کمپرومائز ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامل انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں رکاوٹ بن رہے تھے، اس لیے استعفیٰ دینا ضروری تھا۔یہ اقدام خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل اور وزیر اعلیٰ کے خلاف بڑھتی عدم اعتماد کی فضا کو مزید تقویت دے رہا ہے، اور صوبائی سیاست میں آئندہ دنوں میں مزید اتھل پتھل کی توقع کی جا رہی ہے۔