مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینیوں نے اس منصوبے کو ایک نئے “کلونیلازم” کے طور پر مسترد کیا، جس میں فلسطین کی آزادی کے اصولوں کو منسوخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہیبرون اور رام اللّٰہ کے علاقوں میں مقیم شہریوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ملاقات سے قبل اب 150 سے زائد ممالک نے فلسطینی حقوق اور فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم کر لیا تھا، مگر اس ملاقات میں فلسطینی مسئلے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی نئے مینڈیٹ کے منتظر نہیں ہیں، بلکہ عملی اقدامات، آزادی، عزت اور تحفظ کے ساتھ جینے کے خواہاں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ صرف امن منصوبے کے اعلان سے ان کی زندگی بہتر نہیں ہوگی، بلکہ حقیقی اقدامات اور اپنے حق کی حفاظت کی ضرورت ہے۔