دہشت گردی کا چیلنج دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، خارجی ہاتھ پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، طاقت کے حصول کی دوڑ میں شامل نہیں، غربت ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں:وزیراعظم

میں اور فیلڈ مارشل ہر معاملے پر مشورہ کرتے ہیں شہبازشریف
صدر ڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کروائی   وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شعبہ جات میں بھرپورتعاون کریں گے 
  دفاعی معاہدہ پاکستان اورسعودی عرب کی دیرینہ خواہش تھی، معاہدہ کسی کے خلاف نہیں 
 غزہ میں مسلمانوں کے خلاف بربریت کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہئے،   مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جنرل اسمبلی کے فورم پر بھرپورآواز اٹھائی، پانی کے حوالے سے بھی بات کی
 ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب نے بہت بڑی تباہی مچائی ، نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں‘ دنیا میں جو کچھ ہوتا  ہے، اس کا بغور جائزہ لیتے رہتے ہیں اور پاکستان کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں: لندن میں میڈیا سے گفتگو 
لندن(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے میں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہر معاملے پر مشاورت کرتے ہیں، الحمدُللہ ہم ایک پیج پر ہیں، پاکستان خارجی محاذ، عسکری اور معاشی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے ‘ خارجی ہاتھ پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، دہشت گردی کا چیلنج دوبارہ سر اٹھا رہا ہے جس کا مکمل صفایا کیا جائے گا، طاقت کے حصول کی دوڑ میں شامل نہیں، ہم ملک سے غربت ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کروائی ہے  وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شعبہ جات میں بھرپورتعاون کریں گے۔ ان خیالات  کااظہار انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم معاملات پر ایک پیج پر ہے، میں اور فیلڈ مارشل ہر قومی مسئلے پر مشاورت کرتے ہیں، اقتصادی صورتحال کے حوالے سے بھی باہمی مشاورت کی جاتی ہے، دعا ہے یہ ہم آہنگی جاری رہے تاکہ ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔انہوں نے بتایا کہ افواج پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا وہ ہمیشہ یادرکھے گا، ہماری بہادرافواج نے بھارت کے خلاف جنگ جیتی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ حق میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی، جنگ کے دوران پوری قوم اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی تھی۔  وزیراعظم نے  بتایا کہ نیویارک اورواشنگٹن کا دورہ بہت کامیاب اورمفید رہا، اقوام متحدہ کی عمارت میں غزہ کی صورتحال پر اجلاس خوش آئند پیشرفت ہے، قطر،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اورمصر بھی اہم اجلاس میں شریک ہوئے۔ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ پر اجلاس کی صدارت کی پاکستان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا، غزہ سے متعلق اجلاس میں حوصلہ افزا بات چیت ہوئی، یقین کامل ہے کہ غزہ پر حالیہ اجلاس کا مثبت نتیجہ بہت جلد سامنے آئے گا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انتہائی خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی، امریکی صدر سے ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پچھلے کچھ ماہ سے امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں مزید استحکام آیا ہے، ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری، آئل ایند گیس ایکسپلوریشن پر بات چیت کی، مائنز اینڈ منرلز سمیت دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ ہماری روایتی جنگ تھی جو پاکستان نے جیت لی، اور اگر آپ بروقت مداخلت نہ کرتے اور بات بڑھ جاتی تو کون جانتا ہے، کیا ہوچکا ہوتا؟ اسی لیے ہم نے آپ کو نوبیل امن انعام  کیلئے  نامزد کیا، کیونکہ آپ نے دیگر ملکوں کے درمیان بھی جنگیں اور تنازعات ختم کرائے ہیں، یہ آپ کا بہت بڑا قدم ہے، ہماری دعا ہے کہ آپ کامیاب ہوں، غزہ میں جنگ بندی سے آپ کو بہت دعائیں ملیں گی۔  وزیراعظم نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان اورسعودی عرب کی دیرینہ خواہش تھی، حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری اعتماد کا رشتہ ہے، پاکستان سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کی مضبوط اقتصادیات کے لیے جستجو کررہے ہیں، ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین میں تربیت کے لیے بھیجا ہے، قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہمارا عزم ہے، صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کروائی کہ وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شعبہ جات میں بھرپورتعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں 2023سے جاری ظلم وستم کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ غزہ میں مسلمانوں کے خلاف بربریت کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہئے، غزہ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی میں بھرپورآواز اٹھائی، اقوام متحدہ میں فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ بھرپوریکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے   کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جنرل اسمبلی کے فورم پر بھرپورآواز اٹھائی، پانی کے حوالے سے بھی بات کی، سعودی عرب کے دورے میں پاکستان کو بے پناہ عزت دی گئی، سعودی قیادت نے شاندار استقبال کیا جو 24کروڑ پاکستانیوں کیلئے باعث فخر ہے