چینی صدر شی جن پنگ نے حالیہ دورہ جنوبی کوریا کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم بیانات دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو بدلہ لینے کے خطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ بات چیت اور تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔چینی میڈیا کے مطابق، دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے تفصیلی گفتگو کی اور مسائل کے حل پر اتفاق کیا ہے۔ شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اپنی معیشت کو ایک سمندر کی طرح مضبوط اور پراعتماد سمجھتا ہے اور ہر قسم کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کبھی بھی کسی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اپنے کام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ بات چیت محاذ آرائی سے بہتر ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم ہیں۔ دونوں ممالک کو بات چیت جاری رکھنی چاہیے اور توانائی و تجارت میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تجارتی اور اقتصادی روابط بنیادی عنصر ہونے چاہئیں، اور دونوں ممالک کو طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کو آگے بڑھانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو مسائل کم اور تعاون بڑھانا چاہیے، جیسے غیر قانونی امیگریشن روکنا، ٹیلی کام فراڈ، مصنوعی ذہانت، اور منی لانڈرنگ جیسے شعبوں میں مشترکہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ شی جن پنگ کا موقف ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں توازن اور دوستی قائم رہنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔