فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات میں 65 فیصد کمی ریکارڈ

لاہور (خصوصی ررپورٹ ) پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)کی رپورٹ کے مطابق رواں سال پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ میں گزشتہ اور رواں سال کے اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں ماحولیاتی ضابطوں پر عمل درآمد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔سپارکو کے مطابق گزشتہ سال صوبے کے مختلف اضلاع میں ماحولیاتی خلاف ورزیوں کا مجموعی اسکور 838 تھا، جو رواں سال کم ہو کر 294 رہ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی جانب سے فضائی آلودگی میں کمی اور اسموگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات سے کسانوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیلرز، سوپر سیڈرز اور کبوٹا مشینوں کے استعمال سے فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے زمین میں ملانے کا رجحان بڑھا، جس سے ہوا کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ صوبے کی 64 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی میں سے اب تک 36 لاکھ ایکڑ پر فصل کی کاشت ہو چکی ہے