میٹا کی 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے AI میدان میں سبقت کا عزم

میٹا کی 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے AI میدان میں سبقت کا عزم

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی جگہ بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

 اس تناظر میں، میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر پیچھے رہنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔زکربرگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند سو ارب ڈالر غلط جگہ بھی خرچ ہو جائیں تو یہ افسوسناک ہوگا، مگر اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم موقع گنوا بیٹھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اکثر کمپنیاں تیزی سے ترقی کرتی ہیں یا ناکام بھی ہوتی ہیں، مگر انہی کوششوں سے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹا کے لیے سب سے بڑا خطرہ زیادہ خرچ کرنا نہیں بلکہ کم سرگرم ہونا ہے۔ اسی سوچ کے تحت، کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 تک امریکہ میں تقریباً 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں ڈیٹا سینٹرز، بنیادی ڈھانچے، دیگر امریکی منصوبے اور نئی بھرتیاں شامل ہیں۔

زکربرگ نے اپنے حریفوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کا بھی حوالہ دیا، جنہیں سرمایہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جبکہ میٹا کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر عالمی مالی بحران آ جائے تو چھوٹی کمپنیوں کے لیے فنڈز حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا، مگر میٹا اس سے متاثر نہیں ہوگی۔مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ میٹا نے ایک نئی ”سپر انٹیلیجنس لیب“ قائم کی ہے، جہاں ماہرین بغیر کسی سخت وقت کی پابندی کے AI کے جدید ترین منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ کمپنی کا مقصد یہ ہے کہ ہر محقق کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹنگ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ تحقیق تیز رفتاری سے آگے بڑھے۔