کینیڈا نے غیر ملکی طلبہ کے لیے نئے اسٹڈی ویزا کی منظوری میں نمایاں کمی کی ہے، جو کہ گزشتہ دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ایجوکیشن پلیٹ فارم ApplyBoard کی تازہ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں صرف 80,000 نئے اسٹڈی پرمٹس منظور کیے جائیں گے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں 62 فیصد کم ہے۔ یہ کمی کورونا وبا کے دوران کے اعداد و شمار سے بھی کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی اثرات کے بعد بھی حالات بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سخت تعلیمی پابندیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندیوں کے باعث یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ خاص طور پر، کینیڈا کے کالج سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں جاری ہونے والے تقریباً 80 فیصد پرمٹس پہلے سے موجود طلبہ کے ایکسٹینشنز پر مشتمل ہیں۔ نئے طلبہ کے لیے منظوریوں کی تعداد صرف 30 ہزار سے کم رہنے کی توقع ہے، جو کہ بہت کم ہے۔یونیورسٹیوں کے لیے منظوری کی شرح میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ مئی میں یہ شرح 30 فیصد تک تھی، جو اگست میں بڑھ کر 55 فیصد ہو گئی، لیکن پھر بھی نئے داخلوں کے مواقع محدود ہی ہیں۔
اس کے علاوہ، بھارت، فلپائن، اور کئی افریقی ممالک کے طلبہ کو اسٹڈی ویزا کی منظوری سب سے کم مل رہی ہے، جو عالمی سطح پر طلبہ کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ اس بار کینیڈا میں پہلے سے موجود طلبہ کا حصہ پہلے سے جاری کیے گئے پرمٹس کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایکسٹینشنز (پرمٹس کی توسیع) نئے داخلوں سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ ApplyBoard نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو 2026 تک کینیڈا کے غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں 50 فیصد کمی ہو سکتی ہے، کیونکہ نئے طلبہ کے آنے میں بہت زیادہ کمی دیکھی جا رہی ہے۔یہ صورتحال تعلیم کے شعبے کے لیے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور مستقبل میں طلبہ کی تعداد میں مزید کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔