کراچی میں تین روز کے دوران 11 ہزار سے زائد ای چالان کیے گئے، جن میں سے 1,755 چالان تیز رفتاری پر کیے گئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے کیمرے اور ڈیوائسز تو نصب کر دی ہیں مگر رفتار کی حد یا دیگر خلاف ورزیوں کے لیے کوئی بینرز یا سائن بورڈ نہیں لگائے گئے، جس سے شکایات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اندھا دھند چالان ہونے سے ساری کمائی چالان بھرنے میں ہی چلی جائے گی۔ڈی ایس پی ٹریفک کاشف ندیم کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف اہم راستوں جیسے حسن سکوائر، سوک سینٹر، شارع فیصل، نرسری، بلوچ کالونی، ڈرگ روڈ، آئی آئی چند ریگر روڈ، کلفٹن، تین تلوار اور ڈیفنس اتحاد اسٹریٹ پر سسٹم رائج ہے جو اوور اسپیڈ مانیٹرنگ کرتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی سرکاری گاڑی کا بھی ای چالان ہوا، جس میں ڈرائیور کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر 10 ہزار روپے کا چالان کیا گیا۔ یہ چالان گارڈن کے قریب ہوا۔ شہریوں اور حکام کے درمیان یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ چالان اندھیرے میں کیے گئے ہیں اور ان کے متعلق واضح سائن بورڈز کی کمی ہے، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔