کراچی (یواین پی) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے عدالتی حکم کے باوجود غلام مرتضی جتوئی و دیگر کیخلاف مقدمہ اندراج بارے درخواست پر پولیس کو درخواست گزار اور اہلخانہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں آئینی بینچ نے عدالتی حکم کے باوجود غلام مرتضی جتوئی و دیگر کیخلاف مقدمہ اندراج بارے درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل عمر سومرو نے موقف اپنایا کہ عدالتی حکم کے باوجود ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ جب واقعہ ہوا ہے تو قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا۔ جسٹس کے کے آغا نے ڈی آئی جی نوابشاہ و دیگر سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگوں نے عدالت سے اجازت لی تھی؟، عدالت نے ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد، ایس ایس پی نوشہرو فیروز و دیگر کو تحریری معافی نامہ جمع کرانے کا حکم دیا جس پر افسران نے تحریری معافی مانگ لی۔ بعد ازاں آئینی بینچ نے غلام مرتضی جتوئی و دیگر کیخلاف پولیس کو ایک بار پھر مقدمات اندراج سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔