ڈاکٹر جاوید اقبال
بدبخت کرونا ایک بار پھر اپنی منحوس اور بدبودار شکل کے ساتھ وارد ہو گیا ہے۔
گھر کا کوء نہ کوء فرد نزلہ ، گلہ خراب ، جسم درد ، اسہال ، تیز بخار ، کھانسی ، منہ کے بدلے ذائقے کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔
پروفیسر آف پلمونولوجی عرفان ملک کے بقول مختلف مریضوں کے خون کے ٹیسٹوں سے لگ یہ رہا ہے۔کرونا یلغار کر چکا ہے لیکن شکر ہے۔
وائرس اس طرح تباہی کی داستانیں رقم نہیں کر رہا ہے جیسے آج سے 5 سال پہلے لاکھوں جانوں کو نگل گیا تھا۔
خاکسار نے موذی وائرس سے بچاؤ کے لئے اپنے قریبی ڈاکٹر دوستوں سے گزارش کی۔
خدارا!
صبح کا ناشتہ ضرور کر کے اسپتال روانہ ہوں تاکہ خالی پیٹ قوت مدافعت کم ہونے کیوجہ سے نامراد وائرس نہ چمٹ جائے۔
میرے اس بھاشن کا کوء خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔
اسلام آباد بیٹھے میرے کلاس فیلو ڈاکٹر ہارون نے کہا۔
حضور ہماری قسمت میں ناشتہ نام کی چیز کا کیا لینا دینا ، دوپہر کا کھانا ہو یا رات کا لنگر کبھی کھا لیا ، تو کبھی خالی چائے ، کافی پر گزارہ کر لیا۔
دن ، رات کی ڈیوٹیوں میں بھلا کھانے ، پینے ، سونے کا ہوش ہی کہاں ہوتا ہے ؟
کبھی کبھار تو سوچتا ہوں۔
ڈاکٹر بن کر غلطی کی ہے۔
کاش سی ایس ایس کر کے سول سروس جوائن کر لیتا ، کوء کاروبار ہی کر لیتا۔
اتنی کم تنخواہ اور 36 ، 36 گھنٹے کی ٹینشن زدہ ڈیوٹیاں دے دے کر تو میں اپنی عمر کم کر بیٹھا ہوں۔سنئیر تو اسپتال چائے پینے کی غرض سے آتے ہیں۔
ان کی ڈکشنری میں شاید آوٹ ڈور ، ان ڈور ، آپریشن کرنا درج نہیں ہے۔
میرے کلاس فیلو نے دکھی دل سے مجھ سے گلہ کیا کہ تم ارباب اختیار کو لکھتے کیوں نہیں کہ میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ پر داخلے نہ کئے جائیں۔
ایک اندازے کے مطابق میڈیکل کالجز میں 70 % لڑکیوں کو داخلہ ملتا ہے اور 30 % لڑکے ہوتے ہیں۔
یہ بات شدت سے نوٹ کی گء ہے۔
لڑکیاں ایم بی بی ایس کرنے کے بعد جاب نہیں کرتی ہیں۔اگر نوکری کرتی بھی ہے تو ان کی چھٹیاں ہی ختم نہیں ہوتی ہیں۔
کبھی میٹرنٹی لیو ، کبھی بچوں کے پیپرز ، کبھی بچہ بیمار ، کبھی شادی بیاہ میں شرکت ، کبھی امتحان کی تیاری کے لئے وافر چھٹیاں الغرض سال کے 365 دنوں میں 165 دن اسپتال کے درشن نہیں کرتی ہیں اور خیر سے وارڈ میں کام نہ کرنے کی تو جیسے قسم کھا رکھی ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے اگر ان دگرگوں حالات کا نوحہ کسی قسمت کے مارے نے پڑھا لیا ، وہیں پر رونا ، دھونا شروع ہو جاتا ہے۔
بات مزید بڑھے تو ہراسمنٹ کی درخواست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے یعنی ضد ، انا پسندی اپنی انتہا پر دیکھی جا سکتی ہے۔
میرے جماعتی دوست نے یہ کہہ کر میرے علم میں اضافہ کیا کہ غیر معمولی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال لیڈی ڈاکٹرز بھی کمیونٹی کے اندر ضرور مل سکتی ہیں
لیکن مرد ڈاکٹر بہترین سرجن مانے جاتے ہیں چنانچہ اوپن میرٹ کے بجائے لڑکیوں کی مخصوص سیٹیں سرکاری میڈیکل کالجز میں رکھ کر ہم آنے والے وقتوں میں کسی بڑے بحران سے بچ سکتے ہیں۔
میرے ڈاکٹر دوست نے بڑی عمدہ بات کرتے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز جگہ جگہ کھمبیوں کی طرح پنپ کر کروڑوں روپے فیس کی صورت میں طلباء سے وصول کر کے باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے کیونکہ آج سے 10 سال بعد جو ڈاکٹر ہمارا علاج و معالجہ کریں گے۔وہ کسی ڈسپنسر سے کم قابل نہ ہوں گے۔
میرے جگری دوست نے لگے ہاتھوں والدین کو بڑا ہی اچھا مشورہ دیا۔
براہ مہربانی!
ایم بی بی ایس کرنے کا جو بھوت سب والدین پر سوار ہے۔اس آسیب سے پیچھا چھڑایا جائے کیونکہ آئندہ سالوں میں ڈاکٹر تھوک کے حساب سے دستیاب ہوں گے اور نوکریاں نہ ہونے پر اپنی قسمت کو رو کر یہ کہنے پر مجبور ہوں گے۔
آخر ہم ڈاکٹر بنے ہی کیوں ؟
مسئلہ تو ابھی سے جنم لے چکا ہے۔
پرائیویٹ اسپتال والے ڈاکٹروں کو 40 ہزار سے 60 ہزار ماہانہ پر رکھ رہے ہیں۔
اللہ بھلا کرے۔
ایکٹو ، انرجیٹک خواجہ عمران نذیر وزیر صحت و بہبود آبادی کا جنھوں نے پرائیویٹ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کم تنخواہ کا معاملہ اعلی سطح پر اٹھایا ، انہوں نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تک اس ایشو پر بات کی۔
امید برآں ہے۔مستقبل قریب میں اس کے ثمرات سے ڈاکٹر مستفید ہوں گے حالانکہ یہ کام ینگ ڈاکٹروں کے کرنے کا تھا۔
صدافسوس!
نوجوان ڈاکٹرز اپنے ذاتی مفاد کے لئے بلیک میلنگ سے اداروں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
یہاں پر وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف ، چیف سیکریٹری زاھد اختر زمان ، سیکریٹری صحت مسز نادیہ ثاقب اور بالخصوص کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے والے عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال سپیشل سیکریٹری صحت حافظ طارق محمود
باکمال ، لاجواب سپیشل سیکریٹری بارق اللہ کو داد دینا تو بنتا ہے۔
ان اعلی آفیسران کے ویڑن نے محکمہ صحت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعلی اور انکی دبنگ ٹیم نے ینگ ڈاکٹروں کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا ہے جبھی تو گرینڈ ہیلتھ الائینس کے مٹھی بھر سیاسی لوگوں کی بیجا ہڑتال سے جان چھوٹ گء ہے۔
خدا خدا کر کے اسپتالوں کے او پی ڈی ، وارڈز ، آپریشن تھیٹر کھل گئے ہیں اور ڈاکٹروں کو بددعائیں دیتے مریضوں کی سنی گء ہے۔
راقم نے میڈیکل پروفیشن سے متعلق فکری بحث میں اپنے دوست ڈاکٹر ہارون سے عرض کی۔
آپ کے مفید مشوروں پر عمل کرنا چاہیئے۔
میری نظر میں بڑے ٹیچنگ اسپتالوں میں بورڈ آف گورنر کی تعیناتی بڑا ہی خوش آئند اقدام ہے۔
اس ایکشن سے سرکاری اسپتالوں میں ملازمین کی یونین بازی ، ھڈ حرامی ، آرام پرستی اور بخشیش لینے کی بیماری سمیت بہت سی خرافات سے جان چھوٹ جائے گی۔جب ملازم کو پتہ ہو گا۔کام کریں گے تو تنخواہ و پروموشن ملے گی ورنہ فراغت نامہ بھی تھمایا جا سکتا ہے۔تب جا کر بندے کے پتروں کی طرح کام ہو گا۔
محکمہ صحت میں یہ اصلاحات بہت ہی ضروری ہیں۔
رہی بات مسیحاء شعبے سے منسلک افراد کی انسانیت نوازی کی تو ایسی کہانیاں ناپید ہو چکی شاید کتابوں میں پڑھنے کو مل سکتی ہیں۔
اب تو دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ شعبہ طب کے احباب روپے ، پیسوں کی غلامی چھوڑ دیں تاکہ اللہ پاک مخلوق کی خدمت کے طفیل انکو بے حساب جنت عطا فرمائے۔آمین