ریفرل سسٹم: پنجاب کے اسپتالوں میں اصلاحات کی طرف ایک انقلابی قدم

 فاریہ ملک
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں عرصہ دراز سے اسپتالوں میں رش، وسائل کی کمی، اور علاج میں تاخیر ایک عام مسئلہ رہی ہے۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر نوعیت کا مریض، چاہے اس کو ہلکا بخار ہو یا سنگین بیماری، سیدھا بڑے (ٹیچنگ) اسپتالوں کا رخ کرتا ہے۔
لیکن اب حکومت پنجاب نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو نہ صرف ان مسائل کا حل فراہم کرے گا بلکہ صحت کے نظام کو عالمی معیار کے قریب لے جائے گا۔ یہ فیصلہ ہے: ریفرل سسٹم کا نفاذ۔
ریفرل سسٹم کیا ہے؟
ریفرل سسٹم ایک ایسا ترتیب وار نظام ہے جس میں مریض کو اس کی بیماری کی شدت کے مطابق مختلف سطحوں پر علاج کی سہولت دی جاتی ہے:
1. بنیادی صحت مراکز (BHU):
یہ نظام کی پہلی لائن ہے جہاں عام نوعیت کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
2. تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال (THQ):
اگر مسئلہ BHU میں حل نہ ہو، تو مریض کو THQ بھیجا جائے گا۔
3. ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال (DHQ):
یہاں زیادہ ماہر ڈاکٹر اور مشینری دستیاب ہوتی ہے۔
4. ٹرشری کیئر اسپتال (ٹیچنگ ہسپتال):
یہ اسپتال صرف پیچیدہ اور سنگین امراض کے مریضوں کے لیے مخصوص ہوں گے۔
ریفرل سسٹم کے فائدے
1. بڑے اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا
اب ہلکی نوعیت کے مریض بڑے اسپتالوں میں رش نہیں ڈالیں گے، جس سے ان اسپتالوں کا اصل مقصد—سنگین بیماریوں کا علاج۔زیادہ بہتر انداز میں پورا ہو سکے گا۔
2. وسائل کا مؤثر استعمال
ادویات، بیڈز، مشینری اور عملہ صرف اْن مریضوں کے لیے استعمال ہوگا جنہیں واقعی ضرورت ہے۔
3. مریضوں کو بہتر توجہ اور علاج
کم رش کی صورت میں ڈاکٹرز کو ہر مریض پر توجہ دینے کا زیادہ وقت ملے گا۔
4. وقت اور پیسوں کی بچت
لوگ دور دراز سے ٹیچنگ اسپتال پہنچنے کی بجائے قریبی مراکز میں علاج کروا سکیں گے۔
کمپیوٹرائزڈ مریض ریکارڈ: ایک ناگزیر ضرورت
ریفرل سسٹم کے ساتھ ایک اور اہم قدم جس کی اشد ضرورت ہے، وہ ہے مرکزی کمپیوٹرائزڈ مریض ریکارڈ سسٹم۔
اگر ہر مریض کا ریکارڈ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر موجود ہو تو:
مریض جہاں بھی جائے، ڈاکٹر اس کی میڈیکل ہسٹری فوری دیکھ سکتا ہے۔
پرانے ٹیسٹ، الرجیز، اور علاج کی تفصیلات دوبارہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جعلی رپورٹس اور غلط ادویات سے بچا جا سکے گا۔
عالمی مثالیں
برطانیہ، کینیڈا، اور جرمنی جیسے ممالک میں یہی ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے۔ وہاں عام فلو یا درد کے لیے کوئی ایمرجنسی اسپتال نہیں جاتا، بلکہ پہلے فیملی ڈاکٹر یا کلینک سے رجوع کرتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف وقت بچاتا ہے بلکہ نظامِ صحت کو مستحکم کرتا ہے۔
ریفرل سسٹم صرف ایک پالیسی نہیں، بلکہ صحت کے شعبے میں ایک مثبت انقلاب ہے۔ یہ قدم اگر ایمانداری اور سنجیدگی سے نافذ کیا گیا تو پنجاب میں علاج کا معیار بہتر، اور مریضوں کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس نظام پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، اور ساتھ ہی مریضوں کی میڈیکل ہسٹری کو ڈیجیٹلائز کر کے ایک مکمل، مربوط نظام قائم کیا جائے۔