رفیع صحرائی
زمین صرف ہمارا مسکن نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انسان نے ترقی کی دوڑ میں اس خوب صورت کرہ ارض کو کچرے دان میں بدلنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ہر طرف پھیلا پلاسٹک، آلودہ ہوائیں اور سڑکوں پر پڑے کچرے کے ڈھیر اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظر ثانی نہ کی تو فطرت ہم سے اپنا انتقام لے کر رہے گی۔ اسی احساسِ جرم اور کرہ ارض کو بچانے کی فکر کے تحت ہر سال 20 ستمبر کو ''عالمی یومِ صفائی'' (World Cleanup Day) منایا جاتا ہے تاکہ انسانوں کو یاد دلایا جا سکے کہ صفائی محض ایک عادت نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔
اس دن کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں مگر اس کا اثر عالمگیر ہے۔ اس تحریک کا آغاز 2008ء میں شمالی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ایسٹونیا (Estonia) سے ہوا، جہاں صرف 5 گھنٹوں کے اندر 50 ہزار شہریوں نے متحد ہو کر پورے ملک کو کچرے سے پاک کر دیا۔ اس ایک چھوٹے سے قدم نے ایک عالمی لہر کو جنم دیا اور ''لیٹس ڈو اٹ ورلڈ'' (Let's Do It! World) نامی تنظیم کی بنیاد پڑی۔ رفتہ رفتہ یہ تحریک دنیا بھر میں پھیل گئی اور اقوامِ متحدہ نے اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اپنے رسمی تقویم کا حصہ بنایا۔ آج دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں کروڑوں رضاکار 20 ستمبر کو اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔
عالمی یومِ صفائی منانے کا مقصد محض ایک دن کے لیے جھاڑو اٹھانا یا نمائش کرنا ہرگز نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد کرہ ارض کو درپیش آلودگی کے سنگین خطرات سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، سمندروں میں پھینکا جانے والا ویسٹ اور گلی محلوں میں پھیلی گندگی ہمارے نظامِ تنفس، آبی حیات اور حیوانی زندگی کو تبا ہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہے۔ یہ دن ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ احساس دلاتا ہے کہ ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنا صرف حکومتوں کا کام نہیں، بلکہ ہر شہری کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
صفائی ستھرائی کا ہماری جسمانی اور ذہنی صحت سے براہِ راست تعلق ہے۔ ایک صاف ستھرا ماحول انسان کو نہ صرف بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور سانس کی بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ یہ انسانی ذہن پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ گندگی اور تعفن سے انسان میں چڑچڑاپن اور منفی سوچ جنم لیتی ہے، جبکہ صاف ستھری فضا تسکینِ قلب اور خوشگواری کا باعث بنتی ہے۔ جب ہمارا گھر، گلی اور محلہ صاف ہوگا تو معاشرے میں ایک مثبت توانائی جنم لے گی اور علاج معالجے پر ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اگر ہم سلامی نقطہ نظر سے صفائی کی اہمیت کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت قدم قدم پر سامنے آئے گی کہ دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں طہارت اور پاکیزگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے آقا دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ''الطہور شطر الإیمان'' یعنی ''پاکیزگی اور صفائی نصف ایمان ہے ''۔ اسلام نے نہ صرف جسمانی طہارت یعنی وضو اور غسل پر زور دیا بلکہ اپنے لباس، مکان، گلیوں اور راستوں کو بھی صاف رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ راستے سے تکلیف دہ چیز (کچرا، پتھر یا کانٹا) ہٹانے کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم روزانہ صفائی کے فضائل تو سنتے ہیں لیکن عملی زندگی میں ہم اس پر پورا نہیں اترتے۔ اگر ہم اسلام کی ان تعلیمات پر سچے دل سے عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا ہر شہر مدینہ کی پاکیزگی کی جھلک پیش کرنے لگے۔
ہر سال یومِ صفائی کسی ایک تھیم کے تحت عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ رواں سال یعنی 2026ء کے عالمی یومِ صفائی کا موضوع ''پلاسٹک سے پاک فضا، پائیدار اور سرسبز مستقبل''
(Make Room for Life: A Plastic-Free Future)
کے گرد گھومتا ہے۔ اس تھیم کا مرکزی نقطہ یک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک (Single-use plastic) کے مکمل خاتمے کی ترغیب دینا اور ری سائیکلنگ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ دنیا اس وقت پلاسٹک کی آلودگی کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے، اور 2026ء کا یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے پلاسٹک کا استعمال بند نہ کیا تو ہمارے دریا اور سمندر حیات سے خالی ہو جائیں گے۔
جہاں تک اس حوالے سے ضروری اقدامات کا تعلق ہے تو یاد رکھیے کہ محض تقریروں اور سیمینارز سے ماحول تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی یومِ صفائی کے موقع پر ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ ہم نے آئندہ سے پلاسٹک کو 'ناں' کہنا ہے۔ بازار جاتے وقت کپڑے کا تھیلا ساتھ رکھیں، جو بھی خریداری کریں وہ اس تھیلے میں ڈالتے جائیں۔ پلاسٹک شاپرز کا بائیکاٹ کریں۔ کچرے کی درجہ بندی کریں۔ گھروں میں خشک اور تر کچرے کو الگ الگ کوڑے دانوں میں جمع کریں تاکہ ری سائیکلنگ آسان ہو سکے۔ جسمانی اور زمینی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں فضائی صفائی کا خیال بھی رکھنا ہو گا۔ اس کا بہترین طریقہ شجرکاری ہے۔
ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے۔ کوشش یہ کرے کہ پودا ایسی جگہ لگایا جائے جہاں وہ خود عملی طور پر اس کی پرورش کر سکے۔ پودا لگانا کمال نہیں، کمال یہ ہے کہ اس کی دیکھ بھال کر کے اسے درخت بنایا جائے۔ درختوں کو فطرت کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ جس علاقے میں جتنے زیادہ درخت ہوں گے وہاں کی ہوا اسی قدر صاف اور آلودگی سے پاک ہو گی۔
عالمی یومِ صفائی کے موقع پر تعلیمی اداروں میں صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی مہم چلانا بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دن سے ہٹ کر بھی سکولوں اور کالجوں میں بچوں کو آغاز ہی سے کوڑا دان استعمال کرنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ عادت ساری زندگی ان کے ساتھ رہے گی۔
جہاں پورے ملک میں صفائی کے مسائل ایک دردِ سر بنے ہوئے ہیں، وہیں صوبہ پنجاب سے امید کی ایک روشن کرن نمودار ہوئی ہے۔ حکومتِ پنجاب کا لاجواب اور تاریخی اقدام ''ستھرا پنجاب'' پروگرام ہے، جس نے پنجاب میں صفائی ستھرائی کا ایک بالکل نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ ماضی میں صوبے کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی کے علاوہ دیہی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر معمول کی
بات تھے، لیکن اس پروگرام کے تحت اب پنجاب کے گلی محلوں اور دیہاتوں تک صفائی کا عمل دخل ممکن ہو چکا ہے۔
اس انقلابی تبدیلی پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی پوری ٹیم بلاشبہ شاباش اور خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جس طرح صفائی کو محض انتظامی معاملہ سمجھنے کی بجائے ایک مشن بنایا ہے، وہ قابلِ تقلید ہے۔ ''ستھرا پنجاب'' کے تحت جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، جدید گاڑیوں کی فراہمی، صفائی کے عملے کی حوصلہ افزائی اور دیہی سطح پر پہلی بار صفائی کے نظام کا قیام ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو متحرک کر کے اور پورٹلز کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے نظام نے عوام میں حکومت پر اعتماد کو بحال کیا ہے۔ پنجاب میں آنے والی یہ انقلابی تبدیلی اس بات کی ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔
عالمی یومِ صفائی ہمیں سکھاتا ہے کہ حکومتیں چاہے جتنے بھی اچھے پروگرام لے آئیں، جب تک عوام خود اپنے رویے تبدیل نہیں کریں گے، مکمل کامیابی ممکن نہیں۔ حکومتِ پنجاب نے 'ستھرا پنجاب' کی صورت میں جو بنیاد رکھ دی ہے، اب اس عمارت کو قائم رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آئیے 20 ستمبر کے اس موقع پر عہد کریں کہ ہم نہ خود گندگی پھیلائیں گے اور نہ کسی کو پھیلانے دیں گے۔ ہم اپنے گھر سے لے کر اپنی گلی، اپنے شہر اور اپنے ملک کو صاف ستھرا بنا کر دنیا کے سامنے ایک باوقار اور متمدن قوم کے طور پر ابھریں گے۔