ٹرمپ کا ایران سے کسی بھی قسم کی بات چیت یا پیشکش سے انکار: "نہ مذاکرات جاری، نہ کوئی ڈیل زیر غور"

ٹرمپ کا ایران سے کسی بھی قسم کی بات چیت یا پیشکش سے انکار:

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے کسی بھی قسم کی بات چیت، مذاکرات یا پیشکش کی خبروں کو سراسر مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی ڈیل زیرِ غور ہے، اور نہ ہی وہ ایران سے بات کر رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ایک حالیہ بیان میں ٹرمپ نے واضح کیا:"میں ایران سے بات نہیں کر رہا، اور نہ ہی کوئی ڈیل یا پیشکش زیرِ غور ہے۔"
جوہری تنصیبات کی تباہی کا دعویٰ
ٹرمپ نے مزید کہا کہ:"ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اب بات چیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔"ان کا یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل انہی کی جانب سے ایران سے ممکنہ مذاکرات اور معاہدے کے امکانات کی بات کی گئی تھی۔ اس بیان نے امریکی میڈیا اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں تضادات اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

پچھلا بیان اور امریکی میڈیا کے دعوے
چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ:"اگلے ہفتے ایران سے بات چیت متوقع ہے، اور معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔"اس بیان کے بعد امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن حکومت ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کی پیشکش پر غور کر رہی ہے تاکہ تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایرانی ردعمل: مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں
دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان امریکی دعووں کو بے بنیاد اور غیر سنجیدہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:"نہ تو کوئی باضابطہ رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی ایران امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔"ایران کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ جب تک امریکا اپنے یکطرفہ فیصلوں اور پابندیوں سے پیچھے نہیں ہٹتا، بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔

 تجزیہ
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات میں پایا جانے والا تضاد نہ صرف ان کی خارجہ پالیسی کے غیر مستحکم انداز کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ امریکا-ایران تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کو بھی بڑھا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، جوہری معاہدے کا مستقبل اور معاشی پابندیوں کا سلسلہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔