تحریک انصاف کو ایک اور جھٹکا ،پنجاب اسمبلی میں ہنگا مہ آرائی پر 26ارکان معطل ،توڑ پھوڑ پر 10کو جرمانہ

پی ٹی آئی، 26ارکان پر نا اہلی کی تلوار
نااہلی ریفرنس بھی تیار ،اپوزیشن ارکان 15اجلاسوں کیلئے معطل ،10ایم پی ایز2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے فی کس جرمانہ دینگے ، سپیکر نے اجلاس میں معطلی سے متعلق رولنگ پڑھ کر سنائی،غنڈہ گردی کسی کا حق نہیں :ملک احمد،ڈی سیٹ کریں یاجرمانے ، احتجاج کرینگے :احمد خان بھچر 
لاہور( خصوصی رپورٹ) پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے پی ٹی آئی کے 26 ارکان پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کو ہنگامہ آرائی کرنے پر معطل جبکہ10ارکان کو توڑپھوڑ کرنے پر 20لاکھ روپے سے زائد جرمانہ کردیاگیا، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے الیکشن کمیشن کو نااہلی ریفرنس بھیجنے کا اعلان بھی کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق 26 ارکان کو 15 اجلاسوں کیلئے اسمبلی کی کارروائی سے معطل کیا گیا ہے جن پر قواعد کی سنگین خلاف ورزی، ہلڑ بازی، ایجنڈا پیپرز پھاڑنے اور نعرے بازی کا الزام ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ایوان میں اپوزیشن کا رویہ افسوس ناک ہے، آپ تقریر کریں لیکن میرے ڈائس پر چڑھ کر محبوس نہ کریں، غنڈہ گردی کرنا کسی بھی سیاسی رہنما کا حق نہیں ، ایوان کو قواعد و ضوابط سے چلانا میری ذمہ داری ہے۔ا ن کا کہناتھاکہ اسلحہ بردار افراد کے ساتھ عدالتوں میں کس نے حملہ کیا، جناح ہائوس اور ریڈیو پاکستان کی عمارت پر کس نے حملہ کیا، ان عمارتوں کو کس نے آگ لگائی، میانوالی جیل سے غنڈوں کو کس نے آزاد کرایا اور 500 گاڑیوں کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کس نے کی تھی۔انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کا لیڈر جیل میں ہے تو کس کا لیڈر جیل میں نہیں رہا، کسی ایک شخص کو چھڑوانے کیلئے پوری اسمبلی کی عزت و وقار کو دائو پر نہیں لگایا جا سکتا، کیا بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر میں نے ڈال رکھا ہے؟۔ ایوان میں کسی کو گالم گلوچ کی اجازت نہیں ، ایوان کو کسی صورت بھی مچھلی منڈی نہیں بننے دوں گا،معطل کئے گئے ارکان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دوں گا۔ پنجاب اسمبلی کے معطل ہونے والے 26 ارکان میں ملک فہد مسعود ، محمد تنویر اسلم ، سید رفعت محمود ، یاسر محمود قریشی ، کلیم اللہ خان ، محمد انصر اقبال ، علی آصف ، ذوالفقار علی ، احمد مجتبیٰ چودھری ، شاہد جاوید ، محمد اسماعیل ، خیال احمد ، شہباز احمد ، طیب رشید ، امتیاز محمود ، علی امتیاز ، سردار راشد طفیل ، رائے محمد مرتضیٰ اقبال ، خالد زبیر نثار، چودھری محمد اعجاز شفیع، ایمان کنول ، محمد نعیم ، سجاد احمد ، رانا اورنگ زیب ، شہباز امیر اور اسامہ اصغر علی گجر شامل ہیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس میں ڈیسکوں پر چڑھ کر مائیک توڑنے والے 10 ارکان پر 20 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر 10 ارکان کو 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے فی کس ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ادائیگی 7 روز میں نہ کرنے پر پنجاب گورنمنٹ ڈیو ریکوری آرڈیننس 1962 کے تحت کارروائی ہوگی، واقعہ 16 جون 2025 کے اجلاس میں پیش آیا، ویڈیو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا۔جن ارکان کو جرمانہ کیاگیاان میں ارکان اسمبلی چودھری جاوید کوثر، اسد عباس، محمد تنویراسلم ، سید رفعت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر نصار، رانا اورنگ زیب اورمحمد احسن علی شامل ہیں۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ وہ شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں کیونکہ اسمبلی کے اندر جو طرز عمل اپنایا گیا وہ نہ صرف آئین اور قانون، بلکہ پارلیمانی روایات کے بھی منافی ہے۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے فارم 45 یا فارم 47 پر مبنی جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، آئینی راستہ اپنانے کے بجائے ایوان میں غنڈہ گردی کی جا رہی ہے،معطل ہونے والے ارکان نے ایوان میں ایجنڈا پیپرز پھاڑے، خواتین ارکان پر کتابیں پھینکیں، نازیبا نعرے لگائے اور وزیر خزانہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ ہم احتجاج کریں گے چاہے ہمیں ڈی سیٹ کر دیں یا جرمانے لگا دیں۔پنجاب اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمانی جماعت کا فیصلہ تھا ایوان میں اور باہر احتجاج کریں گے،ہمیں احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ،سپیکر کی باڈی لینگویج سے لگتا تھا کہ وہ دبائو میں ہیں۔ سپیکر نے مجھے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران احتجاج مت کیجیے گا،ہم وزیراعلی کے سامنے احتجاج نہیں کریں گے تو کس کے سامنے کریں گے؟۔ سپیکر صاحب کی کرسی عارضی کرسی ہے ، ہم فسطائی حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔پنجاب اسمبلی اجلاس میں سپیکر محمد احمد خان نے 26 اپوزیشن ارکان کی معطلی سے متعلق رولنگ پڑھ کر سنائی، اجلاس میں سانحہ دریائے سوات پر وزیرِ اعلیٰ کے پی کے کے مستعفی ہونے سے متعلق قرارداد اپوزیشن کی عدم موجودگی میں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔بعدازاں اجلاس میں ضمنی بجٹ 2024-25 پر عام بحث کا آغاز کیا گیا۔اجلاس کل صبح 11بجے تک ملتوی کردیاگیا۔