گنڈاپور حکومت خطرے میں

 رفیع صحرائی

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کو ان نشستوں سے محروم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پانچ سات کی اکثریت سے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ آئندہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے حکمران اتحاد کو پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس کا مطلب ہے آئندہ چند روز میں قومی اسمبلی سے 27ویں ترمیم کی منظوری خارج از امکان نہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے سب سے زیادہ پریشان کْن صورتِ حال خیبر پختون خوا میں پیدا ہو گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی حکومت اب چند ہفتوں کی مہمان ہے۔ پختون خوا اسمبلی سے گنڈاپور کے افراتفری میں بجٹ پاس کرانے اور علیمہ خان کے علی امین گنڈا پور کی جانب سے مائینس عمران خان کرنے کے دعوے کے پیچھے چھپی کہانی بھی اب مکمل طور پر سامنے آ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گنڈاپور نے اپنی حکومت بچانے کے لیے عمران خان سے بغاوت کرتے ہوئے یہ آخری کوشش کی ہے۔ 
سبھی جانتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور کے اسٹیبلشمنٹ سے مضبوط روابط ہیں۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مل کر بہت سی نورا کشتیاں بھی کھیلی ہیں۔ ان کی ہر تحریک کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی منظوری اور رضامندی شامل رہی ہے۔ دوسری طرف وہ پی ٹی آئی کے ورکرز کو قائل کرنے اور لبھانے میں بھی ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ عمران خان ان کی ڈبل گیم کو جانتے ہوئے بھی ان کے خلاف سخت فیصلہ لینے میں متامل رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی قید کے دوران گنڈاپور نے اپنے آپ کو بہت مضبوط کر لیا ہے۔ انہوں نے ایم پی ایز کا ایک بڑا دھڑا بنا لیا ہے۔ اگر انہیں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کا ایڈونچر کیا جاتا تو اس میں تو شاید ناکامی ہوتی البتہ گنڈا پور اپنے ساتھیوں سمیت اپوزیشن اتحاد کو ساتھ ملا کر دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے۔ اسی خوف نے گنڈاپور کو بانی پی ٹی آئی کی مجبوری بنائے رکھا۔ گنڈاپور اپنی حیثیت اور خدمات کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو شاید قابلِ قبول ہو بھی جائیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی حکومت کو پختون خوا میں اب مزید برداشت کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ 
سپریم کورٹ کے ا?ئینی بینچ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حکومت شدید دباو? میں ا? گئی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں موجود 35 ا?زاد ارکان اب فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ جن کی حمایت یا مخالفت سے حکومت کا مستقبل طے ہوگا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی 145 نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں اس وقت 25 مخصوص نشستیں خالی ہیں۔ ان میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی نشستیں شامل ہیں۔ حکومت کو اس وقت 93 ارکان کی حمایت حاصل ہے جن میں 58 ارکان وہ ہیں جو پی ٹی ا?ئی کی حکومت  سے وابستہ ہیں لیکن اس وقت وہ ا?زاد حیثیت میں ایوان میں موجود ہیں جبکہ باقی 35 ا?زاد ارکان بھی پی ٹی ا?ئی کی حمایت سے ہی منتخب ہو کر ا?ئے ہوئے ہیں۔ اگر یہ 35 ا?زاد ارکان حکومت کے ساتھ رہتے ہیں تو علی امین گنڈاپور کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا تاہم ان کی علیحدگی کی صورت میں حکومتی اتحاد کی تعداد گھٹ کر صرف 58 رہ جائے گی جو ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے ناکافی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جب بازی پلٹنے پر آئے تو چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں 64 سینیٹرز کی حمایت رکھنے والے یوسف رضا گیلانی کو شکست ہو جاتی ہے جبکہ 36 سینیٹرز کے حمایت یافتہ صادق سنجرانی جیت جایا کرتے ہیں۔
اپوزیشن میں اس وقت مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9، 9 ارکان، پیپلز پارٹی کے 5 اور اے این پی و پی ٹی ا?ئی پارلیمنٹرینز کے 2، 2 ارکان شامل ہیں جن کی مجموعی تعداد 27 بنتی ہے اگر خالی مخصوص نشستیں ا?ئینی اصولوں کے مطابق ان جماعتوں کو الاٹ ہو جاتی ہیں تو اپوزیشن کی مجموعی تعداد 52 تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت میں اگر ا?زاد ارکان اپوزیشن سے اتحاد کر لیتے ہیں تو ایوان میں ان کی تعداد 88 تک جا سکتی ہے جبکہ حکومت بنانے کے لیے 73 ارکان درکار ہیں۔ یہ 35ا?زاد ارکان چونکہ کسی جماعت کے باقاعدہ رکن نہیں ہیں اس لیے اگر وہ گنڈاپور کے خلاف ووٹ دیں یا موجودہ اپوزیشن کا ساتھ دیں تو ان پر ا?ئینی شق 63 (اے) کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ان 35 ارکان کی حمایت حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے نہایت اہم ہو چکی ہے۔
پی ٹی آئی پر یہ برا وقت لانے کے ذمہ داران میں اس کے چوٹی کے وکلاء￿  چیئرمین بیرسٹر گوہر علی، بیرسٹر علی ظفر، لطیف کھوسہ اور سینیٹر حامد خان برابر کے شریک ہیں جنہوں نے عمران خان کو جیل میں بریفنگ دی تھی کہ مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کی صورت میں پارٹی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا جس پر پی ٹی آئی اور مجلس وحدت المسلمین کا تقریباً طے شدہ سیاسی اتحاد تکمیل کا مرحلہ طے نہ کر سکا۔ سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کرتے وقت کسی نے بھی یہ نہ سوچا کہ اس جماعت سے کسی ایک امیدوار نے بھی الیکشن نہیں لڑا اور اس کے سربراہ خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں سپیکر پختونخوا اسمبلی مخصوص نشستوں پر منتخب کروائے جانے والے اراکین اسمبلی کا حلف کتنی دیر تک روک پاتے ہیں۔