کاشف بٹ
لاہور میں گزشتہ دنوں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے پے در پے حملوں نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے ہمارے سامنے کھڑا کر دیا ہے کہ آخر پولیس اہلکار ہی کیوں نشانے پر ہیں؟ کیا یہ محض چند جرائم پیشہ افراد کا انتقام ہے، یا اس کے پیچھے ایک منظم سوچ، پرانی دشمنی، دہشت گردی کے نیٹ ورک اور پولیس کے خلاف ایک باقاعدہ حکمتِ عملی کام کر رہی ہے؟13 اگست 2026 کو لاہور کے بادامی باغ میں سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسد کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔اس کے بعد یتیم خانہ چوک/ملتان روڈ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں بھی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا،جس میں مزید اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔ ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق یہ واقعات بظاہر ٹارگٹڈ حملے تھے۔ اصل وجہ کیا تھی؟اس واقعے کی ایک اہم کڑی فیضان بٹ کا ماضی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی دشمنی بنتی ہے۔پولیس کے مطابق فیضان بٹ پر پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور مئی 2024 میں وہ سی ٹی ڈی کے ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر عدیل عاشق اس کارروائی میں شامل ٹیم کا حصہ تھے۔تحقیقات کے مطابق فیضان کے بھائی ریحان بٹ نے بعد ازاں عدیل عاشق کو دھمکیاں بھی دی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حملے کو پولیس حکام فیضان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی کوشش سے جوڑ رہے ہیں۔تاہم کسی بھی حتمی نتیجے کے لیے مکمل تفتیش اور قانونی عمل ضروری ہے۔یہاں ایک انتہائی خطرناک پہلو سامنے آتا ہے: جب ایک مجرم کے خلاف پولیس کارروائی اس کے خاندان یا ساتھیوں کے لیے بدلے کی جنگ بن جائے تو پھر نشانہ صرف ایک پولیس افسر نہیں رہتا، پوری ریاستی مشینری بن جاتی ہے۔اس کیس میں ایک اور تشویش ناک پہلو مبینہ کالعدم تنظیموں سے تعلق کا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے وابستہ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ پولیس نے بھی حملہ آوروں کے کالعدم تنظیموں سے ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی ہیں۔یہ صورتحال بتاتی ہے کہ لاہور میں پولیس کو درپیش خطرہ صرف روایتی جرائم تک محدود نہیں۔ دہشت گردی کے نظریے، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، ذاتی انتقام اور غیر قانونی اسلحے کا امتزاج پولیس کے لیے ایک خطرناک چیلنج بن سکتا ہے۔پولیس ریاست کی وہ فورس ہے جو مجرم کو گرفتار کرتی ہے، اس کے نیٹ ورک تک پہنچتی ہے، اسلحہ برآمد کرتی ہے، مقدمات درج کرتی ہے اور دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بناتی ہے۔ اسی لیے دہشت گرد اور خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے لیے پولیس اہلکار نسبتاً واضح اور اہم ہدف ہوتے ہیں۔خصوصاً وہ اہلکار جو کسی بڑے آپریشن، گرفتاری یا تفتیش میں براہ راست کردار ادا کرچکے ہوں، ان کے بارے میں دشمن عناصر ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی اہلکار کو یہ معلوم ہو کہ اس نے جس شخص کو گرفتار کیا یا جس گروہ کے خلاف کارروائی کی، وہ باہر موجود ساتھیوں کے ذریعے بدلہ لے سکتا ہے، تو اس خطرے کو معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔مگر سوال پولیس سے بھی ہے اس پوری صورتحال میں پولیس کی بہادری اپنی جگہ، لیکن ریاست کو ایک مشکل سوال کا جواب بھی دینا ہوگا: کیا ٹارگٹ بننے والے اہلکاروں کی حفاظتی پروفائلنگ مناسب ہے؟اگر کسی اہلکار کو پہلے ہی دھمکیاں مل رہی ہوں، اگر وہ کسی دہشت گرد یا خطرناک مجرم کے خلاف کارروائی میں نمایاں کردار ادا کرچکا ہو، اگر اس کا نام کسی حساس مقدمے میں سامنے آچکا ہو تو اس کی معمول کی ڈیوٹی، آمدورفت اور گھر تک
کی سکیورٹی کا دوبارہ جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟یہاں صرف نفری بڑھانا کافی نہیں۔ انٹیلی جنس، سی ٹی ڈی، آپریشنز پولیس، سیف سٹی کیمروں اور دیگر اداروں کے درمیان معلومات کا فوری تبادلہ ضروری ہے۔دشمن پولیس کی کمزوری نہیں، معمولات پڑھتا ہے
بادامی باغ حملے کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ٹیم خفیہ اطلاع پر کارروائی کے لیے پہنچی تھی اور ملزمان نے فائرنگ کردی۔اس سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے: خطرناک ملزمان کے خلاف کارروائی صرف ہمت سے نہیں، انٹیلی جنس، سرپرائز، نگرانی، بیک اپ اور جدید ٹیکنالوجی سے کامیاب ہوتی ہے۔پولیس اہلکار جب کسی خطرناک ملزم کے گھر یا ٹھکانے پر پہنچتا ہے تو اس کے پاس یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے پیچھے مکمل انٹیلی جنس سپورٹ اور فوری بیک اپ موجود ہے۔
یہ جنگ صرف پولیس کی نہیں سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پولیس اہلکار کی شہادت کے بعد چند دن تک بحث ہوتی ہے، تعزیتی بیانات آتے ہیں،افسران جنازے میں شریک ہوتے ہیں اور پھر شہر دوبارہ معمول پر آجاتا ہے۔ لیکن شہید اہلکار کا خاندان عمر بھر اس نقصان کے ساتھ جیتا ہے۔ریاست کو یہ سوچنا ہوگا کہ پولیس اہلکار کو صرف ڈیوٹی پر موجود ایک وردی نہ سمجھا جائے۔ وہ بھی کسی کا بیٹا، بھائی، شوہر اور باپ ہے۔لاہور جیسے بڑے شہر میں پولیس پر حملہ دراصل شہریوں کے تحفظ کے نظام پر حملہ ہے۔اس صورتحال کا جواب صرف مزید ناکے اور سرچ آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ پولیس اہلکاروں کو ملنے والی دھمکیوں کا مرکزی ڈیٹا بیس بنایا جائے۔حساس مقدمات میں شامل اہلکاروں کی سکیورٹی پروفائلنگ کی جائے۔خطرناک ملزمان کے خاندان، سہولت کاروں اور رابطہ کاروں کی قانونی نگرانی کی جائے۔کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں کے باہمی روابط کی انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں۔سیف سٹی کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کو فوری رسپانس کے ساتھ جوڑا جائے۔پولیس اہلکاروں کی ذاتی معلومات اور معمولات کو غیر ضروری طور پر عام ہونے سے روکا جائے۔دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات کی تفتیش میں پراسیکیوشن اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مربوط نظام بنایا جائے۔لاہور میں پولیس اہلکاروں پر حالیہ حملے ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ خطرہ ختم نہیں ہوا؛ اس نے اپنی شکل بدلی ہے۔ کبھی یہ دہشت گردی کی صورت میں سامنے آتا ہے، کبھی جرائم پیشہ گروہ کی شکل میں اور کبھی ذاتی انتقام کے نام پر۔
اصل کامیابی صرف حملہ آور کو مار دینا یا گرفتار کرنا نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ اس سوچ، نیٹ ورک اور نظام کو توڑا جائے جو ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بنانے کے بعد دوسرے اہلکار کو اگلا ہدف بناتا ہے۔وردی پر چلنے والی گولی دراصل ریاست کے سینے پر چلتی ہے۔ اگر ریاست اس گولی کے پیچھے موجود ہاتھ، ذہن اور نیٹ ورک تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تو لاہور محفوظ ہوگا؛ بصورت دیگر ایک ریحان کے بعد دوسرا ریحان پیدا ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔اور یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سوال ہے۔