عابد گوندل
پاکستان میں ڈیٹا سیکیورٹی کی ہمیشہ سے تشویش ناک صورتحال رہی ہے مگر چیئرمین پی ٹی اے کے حالیہ انکشافات نے اس مسئلے کی سنگینی کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کر دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کا نجی اور حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر برائے فروخت موجود ہے اور پانچ سو روپے جیسی معمولی رقم دے کر کسی بھی شخص کی ذاتی تفصیلات باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افراد کی پرائیویسی کے لیے خطرناک ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب ایک عام شہری کی شناختی دستاویز، موبائل سم کی تفصیلات اور ٹریول ہسٹری تک اس طرح کے پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں تو سوچنے کی بات ہے کہ بیرونی عناصر اس ڈیٹا کو کس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔یہ انکشاف اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب چیئرمین پی ٹی اے نے یہ بتایا کہ جتنے لوگوں نے حج کے لیے اپلائی کیا تھا ان سب کا ڈیٹا بھی ڈارک ویب پر موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی محکموں اور سرکاری ڈیٹا بیسز میں موجود معلومات کی حفاظت کے حوالے سے بنیادی غفلت برتی جا رہی ہے۔ ایسے لوگوں کا ڈیٹا جنہوں نے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے درخواست دی تھی اگر باآسانی فروخت ہو رہا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیٹا سیکیورٹی کے موجودہ نظام میں کئی بڑے سوراخ ہیں۔ ایک طرف عوام ریاست پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی ذاتی معلومات فراہم کرتے ہیں اور دوسری جانب وہی معلومات غیر محفوظ ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ یہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں ڈیٹا لیکس کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ شناختی کارڈز، پاسپورٹ ریکارڈ، اور یہاں تک کہ بینک اکائونٹس کی معلومات تک بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں۔ لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ایک اعلیٰ حکومتی ادارے کے سربراہ نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے۔ اس اعتراف کے بعد اب مزید انکار یا لاپروائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سوال یہ ہے کہ 2022 میں جب اس معاملے پر اندرونی انکوائری کی گئی تھی تو اس کے نتائج کیوں عوام کے سامنے نہیں لائے گئے؟ اور اب وزارت داخلہ کی انکوائری شروع ہونے کے باوجود کیا یقین دہانی ہے کہ یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب کر نہ رہ جائے؟ڈیٹا لیکس صرف انفرادی سطح پر مسائل پیدا نہیں کرتے بلکہ یہ قومی سطح پر بھی نقصان دہ ہیں۔۔ اگر یہ معلومات بیرونی دشمنوں یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ جائیں تو اس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سائبر سکیورٹی کو اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی ایٹمی یا عسکری دفاع کو کیونکہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے
پاکستان ابھی تک اس حقیقت کو سنجیدگی سے نہیں لے پایا۔حکومت کے ذمہ داران کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ڈیٹا ہی نئی دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈیٹا کو تیل یا سونے کی طرح قیمتی سمجھا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر آج ڈیٹا سیکیورٹی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ ملک کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے درست کہا کہ حکومت کو ایک ایسا ڈیٹا سینٹر بنانا چاہیے جس کی سیکیورٹی ہائی لیول کی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک ڈیٹا سینٹر بنا دینا کافی ہوگا؟ جب تک اس کے ساتھ مضبوط قانون سازی، سخت نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہو تب تک کوئی بھی منصوبہ موثر ثابت نہیں ہوگا۔اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی بھی ہے۔ پاکستان میں مختلف ادارے اپنے اپنے طور پر ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں لیکن اس کی حفاظت کے لیے مربوط پالیسی نہیں اپناتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کہیں سے بھی ڈیٹا لیک ہو جائے تو اس کا پتا لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کی جائے جو تمام محکموں اور اداروں کے لیے یکساں اصول و ضوابط مرتب کرے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے حکومت کو شفاف اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کیا جائے کہ کس سطح پر اور کس ادارے سے ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ پھر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس معاملے کو معمولی نہ سمجھے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں اور اگر انہیں شک ہو کہ ان کا ڈیٹا لیک ہوا ہے تو وہ بروقت متعلقہ اداروں کو اطلاع دے سکیں۔پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو اس ضمن میں مزید اختیارات اور وسائل دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ڈیٹا لیکس میں ملوث نیٹ ورکس کو ٹریس کر سکے۔ اسی طرح پرائیویٹ کمپنیوں اور موبائل آپریٹرز کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا صرف قانونی دائرے میں استعمال کریں اور اس کی حفاظت کے لیے جدید ترین طریقے اپنائیں۔ڈیٹا لیکس کے مسئلے کو صرف حکومتی سطح پر ہی حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عوامی سطح پر بھی آگاہی ضروری ہے۔ لوگ اکثر اپنی ذاتی معلومات بہت آسانی سے دوسروں کے ساتھ شیئر کر دیتے ہیں یا غیر محفوظ ویب سائٹس اور ایپس پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں جس سے وہ خود بھی اس خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ لہٰذا میڈیا اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ لوگوں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور سائبر سیکیورٹی کے بارے میں شعور پیدا کریں تاکہ ہر شخص اپنی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے محتاط رویہ اپنائے۔ پاکستانیوں کے ڈیٹا کا ڈارک ویب پر فروخت ہونا صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے۔ یہ معاملہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ ہم جدید دنیا کی ضروریات کے ساتھ چلنے میں کس قدر پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اس کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مستقبل میں نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہماری قومی سلامتی بھی دائوپر لگ سکتی ہے۔