سید منیر حسین گیلانی
کافی عرصے بعدغزہ میں جاری انسانیت سوز بربریت کے مسئلے پر دنیا کے بدترین سازشی ،جنگجو فکر کے انسان نما شیطان ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس اسرائیل جنگ ختم کرنے کے لیے 20 نکاتی فارمولا دیا ہے۔ پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پرعرب اور غیرغرب مسلم ممالک کے سربراہوں کے سامنے یہ فارمولا پیش کیا گیااورپھر کچھ دنوں بعد اس نے درندہ صفت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکو اپنے ہاں بلا کر اسے اعتماد میں لیا۔پھر دونوں باپ امریکہ اور ناجائز بیٹے اسرائیل نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔نیتن یاہو کی پریس کانفرنس کو نمایاں طور پرعالمی میڈیا پر دکھایا گیا،جس میں اس نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے نکات پڑھ کر سنائے۔اس کی تفصیلات آج دنیا کے سامنے ا ?چکی ہیں اور تبصرے جاری ہیں۔ان نکات میں دو ریاستی فارمولے کا کہیںکوئی ذکر تک نہیں ،جس پر میاں شہباز شریف اور دوسرے رہنمابغلیں بجارہے تھے کہ ہم نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کردی ہے۔ میں حیران ہوں کہ یورپ کے چند ممالک جب فلسطین کو تسلیم کیا تو اعلان کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کی خاطر انسانیت کے نا م پر دو ریاستی حل کروائیں گے ، لیکن ٹرمپ کے امن فارمولے میں اس کا ذکر نہ ہونے پر کسی نے نہ صرف کوئی احتجاج نہیں کیا، بلکہ امریکہ کی تعریف کے پل باندھ رہے ہیں۔
میں کسی اور کی بات کیسے کروں؟ میں تو اپنے محبوب وزیراعظم شہبازشریف اور آرمی چیف فیلڈمارشل سید عاصم منیرکی سوچ پر اظہار افسوس کرتا اور شرمندہ ہوتا ہوں کہ پاکستان کی دونوںطاقتور شخصیات نے ٹرمپ سے ملاقاتیں کیں، خوشگوار موڈ اور قہقہوں کو بار بار میڈیا دکھا یا گیا ، لیکن وزیر اعظم نے اس امن فارمولے کے منظر عام پر آنے سے بھی پہلے اس شیطانی فارمولے کی حمایت کر دی تھی اور ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کردیے تھے، اسی طرح کی کیفیت سعودی عرب کی طرف سے دیکھنے کو ملی، حالانکہ اس میں دور یاستی حل کا کسی طرف اشارہ تک نہیں، حتیٰ کہ فلسطینیوں کے حق آزادی تک کی کوئی بات اس دستاویز میں شامل نہیں۔ اس میں اضافہ کرتے ہوئے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایسا کوئی سیاسی فارمولا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کشمیر کو ختم کرنے کے لیے بھی کیا قابل عمل ہو سکتا ہے ؟چونکہ دونوں کی پوزیشن تقریبا ًایک جیسی ہے اور دونوں خطوں کے عوام ایک عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔یقینا نہیں۔اس کے علاوہ، میں اس بات پربھی تعجب کی کیفیت سے گزر رہا ہوں کہ اس فارمولے میں دو ریاستی حل کی تو کوئی بات نہیں، صرف جنگ بندی اور صیہونی یرغمالیوں کی رہائی زندہ یا مردہ کو ترجیح نمبر ایک رکھا گیا ہے اور وہ دو ممالک جو اسرائیل کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے فریق ہیں اور لڑائی کی وجہ بنے ہوئے ہیں ،انہیں کی دو شخصیات کو امن قائم کرنے کے لیے کردار دیا جا رہا ہے۔ان میںزمانہ کا مکار اور جھوٹا شخص برطانیہ کا سابق وزیراعظم ٹونی بلیراورفلسطین کی تباہی کے اصل مجرم امریکی صدر جو اسرائیل کو لگاتار اسلحہ اور وسائل فراہم کر رہا ہے،کہا جارہا ہے کہ یہ غز ہ ترقیاتی کمیٹی کا سربراہ ہوگا۔ ٹونی بلیر وہ شخص ہے جس نے جھوٹ بول کر عراق پر حملہ کروایا، جس میں ہزاروں بے گناہ انسان قتل، زخمی اوربے گھر ہوئے۔ اب وہ فلسطینیوں کی فلاح و بہبود کی کمیٹی کا رکن ہوگا۔ پنجابی کی کہاوت ہے ©:
’گدڑ کھکھڑیاں دے رکھوالے‘
یعنی گیدڑ خربوزے کے کھیت کی رکھوالی کرنے والے بن گئے۔ حیران کن بات ہے کہ اس جنگ میں معصوم انسانوں کی قتل و غارت گری میں شریک رہنے والی صیہونی حکومت کی ظلم وبربریت پر سزا دینے ، فلسطینیوں کی تباہ حال آبادیوں اور معیشت کی بحالی کے لیے کوئی جرمانہ اسرائیل کو ادا کرنے کا نہیں کہا گیا، بلکہ سعودی عرب اور قطر جیسے موثر مسلم ممالک وسائل دیں گے اور ظالم حکمران وسائل خرچ کریں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس وقت تک دوریاستی فارمولا آگے نہیں بڑھے گا ،جب تک کہ قابض صیہونی اسرائیلی فوج کو یہاں سے نکال نہیں دیا جاتا ،یہ عمل آگے نہیں چل سکتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مغربی کنارے کا وہ حصہ جس میں بیت المقدس ہے وہ فلسطین کا دارالخلافہ بنایا جاتا صیہونی حکومت سے آزاد کروا کر فلسطینیوں کے حوالے کیا جاتا لیکن ایسی کوئی بات سامنے نہیں آرہی بلکہ وہ ممالک جو دو ریاستی حل کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں ،وہ بھی آج ملت اسلامیہ اور آزادی پسند تنظیموں کو شرمندگی کے باعث منہ دکھانے کے قابل نہیں۔
فلسطینیوں کی حالیہ جدوجہد کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں۔میں ان شہداء اور مجاہدین کوسلام پیش کرتا ہوںجنہوں نے 7 اکتوبر 2023ء کو’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ کے نام سے آپریشن اپنے اس استحقاق کے ساتھ شروع کیا کہ اسرائیل کے علاقے مقبوضہ فلسطین ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹرانہیں حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے قبضہ چھڑوانے کے لئے مسلح جدوجہد کریں۔ اس دوسالہ جدوجہد کے دوران حزب اللہ اور حماس کی قیادت سید حسن نصر اللہ، ہاشم صفی الدین،اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار سمیت 66 ہزار بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے حملے کیے ،ایران نے بھی ان کو بھرپور جواب دیا اوراس مفروضے کو پاش پاش کردیا کہ اسرائیل اور امریکہ پر کوئی حملہ نہیں کرسکتا۔ ہم سمجھتے ہیںکہ فلسطینیوں کی جدوجہد سرزمین بیت المقدس کی آزادی تک جاری رہے گی۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ جب اسرائیل کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے تو حماس نے جنگ شروع کیوں کی۔یاد رکھیں، جنگیں بہادری،قربانی اور اصولوں کے بغیر نہیں لڑی جاسکتیں۔ آزادی کی تحریکوں میں انسانی قربانیوں کہ نہیں مقصد اور کاز کی اہمیت کو دیکھا جاتا ہے،جس کے لیے قربانیاں دی جا رہی ہوتی ہیں۔میں یہاں یہ بھی لوگوں کو یاد دہانی کروانا چاہوں گا کہ کربلا کو سمجھے بغیر کسی تحریک آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 60 ہجری میں واضح تھا کہ یزیدی حکومت اور فوج کا مقابلہ امام حسین علیہ السلام کے بہترساتھی نہیں کر سکتے مگر امام عالی مقام کو اپنے نانا کے دین کے تحفظ کا مقصد عزیز تھا۔تو انہوں نے قربانی دی۔آج ایک مسلم ممالک کی آزادی کے لیے مزید فلسطینیوں کی قربانیاں دینا پڑیںتو یہ مہنگے کا سودا نہیں ہے، سودا اصولوں، حریت ،غیرت اور حمیت کا ہے۔چونکہ گیدڑ کی 100 سالہ زندگی سے شیر کی ایک سال کی زندگی بہتر ہے۔ اس لیے مزید قربانیاں بھی دینا پڑیں گی فلسطین کی آزادی کوئی آسان کام نہیں ،پوری دنیا صیہونی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ،جبکہ ہمارے اپنے مسلم ممالک میں سے بھی کئی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں اورمزیدکچھ تسلیم کرنے کو تیار کھڑے ہیں۔ابراہیمی معاہدے کے نام سے ٹرمپ نے ایک ایسا جال تیار کیا ہے جس میں پھنسنے کے لیے کئی عرب ممالک پر تول چکے ہیں، اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ عوامی رد عمل کیسا ہوگا؟
میںپاکستانی عوا م اور ہر غیرت مند انسان سے گزارش کروں گا کہ نیتن یاہو، ٹرمپ اور ٹولی بلیر تینوں بین الاقوامی مجرم ہیں، ان کو سزا دینے کا مطالبہ کریں۔ پاکستان کی حکومت اور فوج سے مطالبہ کریں کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کسی بھی فارمولے کورد کریں اورمجوزہ دستاویز میں اپنی طرف سے ترمیم کر کے اپنے ہم نو ساتھی مملکتوں کے ساتھ سفارتی سطح پر ایسامتفقہ لائحہ عمل اختیار کریں،جو فلسطینی عوام کو قابل قبول ہو اورمشرق وسطیٰ میںپائیدارامن کی ضمانت دے۔اسی طرح برصغیر میں برطانیہ کی شرارت کی وجہ سے1947ء سے مسئلہ کشمیر کی شکل میں جوتنازعہ موجود ہے، اس کا حل صرف اور صرف کشمیریوں کی آزادی ،خود مختاری اور کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ کشمیری عوام کامطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروا کر انڈیا یہاں سے نکل جائے اور کشمیریوں کو موقع دیا جائے کہ وہ فیصلہ کر سکیںوہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا انڈیا کے ساتھ۔۔۔END۔۔۔۔