پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئر لائنز کو مالی اور آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے فلائٹ گلوبل کے مطابق قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کو 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران تقریباً 2.3 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کو اپنے مغربی روٹس تبدیل کرنا پڑے، جس کے نتیجے میں پروازوں کے دورانیے، ایندھن کے استعمال اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔فلائٹ گلوبل کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ امریکہ۔ایران کشیدگی کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال نے بھی ایئر انڈیا کے مالی مسائل میں اضافہ کیا۔بھارتی ماہرِ ہوا بازی سوباش گوئل کے مطابق پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی ایئر لائنز کی روزانہ تقریباً 400 سے 500 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا نے بھی پاک بھارت تنازع کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش کو اپنے مالی خسارے کی اہم وجوہات میں شامل کیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق بڑھتے آپریشنل اخراجات نے بھارتی فضائی شعبے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔