عابد گوندل
پنجاب اسمبلی ایک بار پھر سیاسی کشیدگی، بدتمیزی اور غیر جمہوری رویوں کامرکز بنی ہوئی ہے۔ جس ایوان کو قانون سازی، عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے فروغ کا مرکز ہونا چاہیے وہ مسلسل ذاتی انا، جماعتی مفادات اور انتقامی کارروائیوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ اجلاس کے دوران پیش آنے والا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے پارلیمانی اقدار سے کس حد تک دور ہو چکے ہیں۔اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر کا حکومتی رکن حسان ریاض کو تھپڑ مارنا ایک ایسا فعل ہے جو کسی مہذب اور جمہوری ایوان میں ناقابل برداشت ہونا چاہیے۔ جسمانی تشدد کسی بھی فورم، خاص طور پر ایک آئینی ادارے میں نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ایک قابل سزا جرم بھی ہے۔ لیکن اس واقعے کے بعد جس طرح معاملے کو سنبھالنے کے بجائے مزید اشتعال انگیزی، یکطرفہ فیصلے اور سیاسی انتقام کا رنگ دیا گیا اس نے یہ ثابت کر دیا کہ مسئلہ صرف ایک تھپڑ یا ایک رکن کا نہیں بلکہ پوری سیاسی ثقافت کا ہے جو مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔قائمقام سپیکر کی جانب سے اپوزیشن رکن خالد نثار کی پندرہ نشستوں کے لیے رکنیت معطل کرنا بظاہر تو نظم و ضبط کے قیام کے لیے ایک سخت اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر اسی سانس میں امتیاز شیخ جیسے رکن کو صرف کورم کی نشاندہی کرنے پر معطل کرنا اس فیصلے کو متنازعہ بنا دیتا ہے۔ کورم کی نشاندہی کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور اس پر کسی رکن کو سزا دینا پارلیمانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایوان کی کارروائی میں اکثریت اور اقلیت دونوں کا کردار اہم ہوتا ہے لیکن جب اقلیت کی ا?واز کو دبانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں تو یہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت اپوزیشن ارکان پریس ہال سے باہر آ رہے تھے تو دو نامعلوم افراد نے ان سے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ گالم گلوچ اور ٹکرائو کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس واقعے نے سیکیورٹی انتظامات اور اسمبلی کے ماحول پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیا اسمبلی جیسی اہم جگہ پر ایسے عناصر کا داخل ہو جانا معمولی واقعہ سمجھا جائے؟ یا یہ سب کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھا تاکہ سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کیا جائے؟ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ سیکیورٹی اہلکار وقت پر موقع پر پہنچے اور دونوں گروپوں کو الگ کیا ورنہ نوبت ہاتھا پائی سے بڑھ کر کسی سنگین واقعے تک جا سکتی تھی۔اپوزیشن کی جانب سے قائمقام سپیکر کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا گیا اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے واضح طور پر کہا کہ یہ کسی فرد واحد کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا تنازعہ تھا جو پارلیمانی سطح پر ایتھکس کمیٹی کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا۔ اس رائے میں وزن بھی ہے اور جمہوری سوچ کی جھلک بھی۔ ہر ایوان میں نظم و ضبط کے لیے اخلاقیات پر مبنی کمیٹیاں موجود ہوتی ہیں جن کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھا جائے اور مناسب کارروائی کی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے ادارے یا تو غیر فعال کر دیے جاتے ہیں یا پھر ان کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔پارلیمانی امور کے وزیر مجتبیٰ
شجاع الرحمٰن نے ایوان کے تقدس کی پامالی پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس واقعے پر سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا یہ موفف اصولی طور پر درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کارروائی یکساں ہو گی؟ یا صرف اپوزیشن کے ارکان کو نشانہ بنایا جائے گا؟ ایوان کا تقدس اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب قانون سازی اور نظم و ضبط پر عمل درآمد میں انصاف، غیر جانبداری اور توازن برقرار رکھا جائے۔ بصورت دیگر ایسے واقعات صرف سیاسی کشیدگی میں اضافے اور جمہوری اداروں کی ساکھ کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اپوزیشن کا ایوان سے واک آئوٹ اور امتیاز شیخ کی کورم نشاندہی کے فوراً بعد ان کی رکنیت معطلی ایک ایسا عمل ہے جو اس تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے کہ اسمبلی میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ کورم نشاندہی آئینی طریقہ کار ہے نہ کہ کسی کو نیچا دکھانے کا حربہ۔ اگر اس آئینی اختیار پر بھی قدغن لگا دی جائے تو پھر حزب اختلاف کا کردار ہی ختم ہو جائے گا اور اسمبلی محض ایک سرکاری دفتر میں تبدیل ہو کر رہ جائے گی جہاں صرف حکومتی بیانیہ ہی سنا اور مانا جائے گا۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اس بات کا ادراک کریں کہ ادارے افراد کی ملکیت نہیں ہوتے۔ اسمبلیاں صرف اکثریت کی مرضی کا نام نہیں بلکہ اختلاف رائے کی صحت مند روایت کی جگہ بھی ہیں۔ اگر حکومتی جماعتیں اقلیت کی آواز کو دبانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں گی تو جمہوریت محض ایک دکھاوا بن جائے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاج کے جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کرے۔ ذاتی حملے، غیر پارلیمانی زبان یا تشدد جیسے واقعات کسی صورت جواز نہیں رکھتے۔اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب اسمبلی سمیت تمام صوبائی و قومی ایوانوں میں ایک جامع ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کا اتفاق ہو اور جس کی خلاف ورزی پر غیر جانبدارانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔ قائمہ کمیٹی برائے اخلاقیات کو فعال بنایا جائے اور ایسے معاملات فوری طور پر اس کے سپرد کیے جائیں تاکہ فیصلے سیاسی مفاد کے بجائے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہوں۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ مسلسل تربیت، برداشت اور شراکت داری کا عمل ہے۔ اگر ہم نے اپنی سیاسی روش نہ بدلی تو آنے والے وقت میں نہ صرف ادارے کمزور ہوں گے بلکہ عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔