محمد باقر جاوا
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اخلاق اور حسنِ سلوک وہ اقدار ہیں جنہوں نے معاشروں کو زندہ رکھا اور انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ جب ظلم، کینہ، خود غرضی اور نفرت دلوں میں جگہ بناتی ہے تو انسان اپنے اصل مقام سے گر جاتا ہے۔ لیکن جب کردار کی بلندی، نرمی، عفو اور محبت غالب آتی ہے تو معاشرہ سکون اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا یہ عظیم قول "لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ سلوک کریں" اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ انسانی رویے کا اصل معیار وہی ہے جو انسان خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔یہ قول ایک ایسی آفاقی تعلیم ہے جسے دنیا کے ہر بڑے فلسفے اور اخلاقی ضابطے نے تسلیم کیا۔ اس میں عدل بھی ہے، محبت بھی اور اخوت بھی۔ اگر ہر انسان یہ سوچ لے کہ میں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کروں گا جیسا چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ ہوتو دنیا سے نفرت، ناانصافی، استحصال اور جبر خود بخود ختم ہو جائے۔ لیکن افسوس کہ انسان نے اکثر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور اس اصولِ زندگی کو پس پشت ڈال دیا۔
ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے ساتھ انصاف چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی عزت ہو لیکن وہ دوسروں کی عزت پامال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق کا خیال رکھا جائے مگر ہم دوسروں کے حقوق تلف کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر ہم امام حسن مجتبیٰ? کے قول کو زندگی کا معیار بنا لیں تو یہ رویے خود بخود بدل جائیں۔ ایک دکاندار سوچے کہ وہ خود اگر خریدار ہے تو اسے کیسا سچ بولنے والا تاجر پسند ہے؟ ایک حکمران سوچے کہ وہ خود اگر رعایا میں ہے تو اسے کیسا انصاف چاہیئے؟ ایک استاد سوچے کہ وہ اگر شاگرد ہوتا تو کیسا رہنمائی کرنے والا معلم پسند کرتا؟ ایک مزدور یہ سوچے کہ وہ اگر مالک ہوتا تو کس طرح کا دیانت دار کارکن پسند کرتا؟ یہی سوچ انسان کے عمل کو متوازن اور اخلاقی اصولوں کے مطابق بنا دیتی ہے۔یہ اصول انسانی مساوات کی ضمانت ہے کیونکہ اس میں کوئی تفریق نہیں کہ دوسرا شخص کون ہے، کس مذہب کا ہے، کس رنگ و نسل کا ہے یا کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جب معیار یہ بن جائے کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں تو پھر انسان کی نظر میں سب برابر ہو جاتے ہیں۔ یہ تعلیم نفرت کی دیواریں گرا دیتی ہے اور دلوں میں محبت کے چراغ روشن کرتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ قول محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کا بنیادی اصول بھی ہے۔ کیونکہ معاشرے میں بگاڑ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک طبقہ دوسرے کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے جسے وہ اپنے لیے برداشت نہیں کر سکتا۔ طاقتور کمزور کو دبائے، دولت مند غریب کو محروم رکھے، عالم جاہل کو حقیر سمجھے تو یہی ناانصافی معاشرے کو کھا جاتی ہے۔ لیکن اگر ہر شخص یہ سوچ لے کہ میں وہی کروں گا جو میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا جائے، تو یہ ظلم کا دروازہ بند ہو جائے۔۔۔۔ انسان کی اصل فطرت نیکی اور بھلائی ہے۔ اگر وہ خود سے سوال کرے کہ وہ دوسروں سے کیسا سلوک چاہتا ہے تو اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ محبت، عزت، انصاف اور نرمی۔ کوئی انسان یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے ساتھ جھوٹ بولا جائے، اسے دھوکہ دیا جائے، اس پر ظلم کیا جائے یا اس کی عزت پامال ہو۔ اس طرح یہ اصول انسان کو اپنی فطری بھلائی کی طرف لوٹنے کا راستہ دکھاتا ہے۔۔اسلامی معاشرت کا حسن ہی اسی میں ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کو اپنے حقوق پر مقدم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی بارہا انسان کو عدل، احسان اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کی دعوت دی ہے۔ امام حسن? کے اس قول میں وہی قرآنی تعلیم اپنی عملی شکل میں جلوہ گر ہے۔ یہ قول ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اچھے رویے کی بنیاد نیت پر ہے۔ اگر میں یہ چاہوں کہ میرے ساتھ خیر ہو تو مجھے بھی دوسروں کے لیے خیر بانٹنی ہوگی۔ یہ زندگی کا وہ توازن ہے جسے بگاڑنے سے دنیا کی تمام برائیاں جنم لیتی ہیں۔۔یہ اصول بین الاقوامی سطح پر بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا فرد یا معاشرے کی سطح پر۔ اگر ریاستیں یہ سوچ لیں کہ جس طرح وہ اپنے ملک کی خودمختاری، وسائل اور عوام کا تحفظ چاہتی ہیں ویسا ہی دوسروں کے لیے بھی سوچیں تو دنیا میں جنگیں ختم ہو جائیں۔ لیکن جب ایک ملک اپنے لیے امن، ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے مگر دوسروں پر جنگ، غربت اور غلامی مسلط کرتا ہے تو یہ دنیا عدم توازن اور فساد کا شکار ہو جاتی ہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہم نے اپنے رویوں کو خود غرضی، نفرت اور تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ دوسروں کی مسکراہٹ میں ہماری اپنی مسکراہٹ چھپی ہے۔ دوسروں کے سکون میں ہمارا اپنا سکون ہے۔۔انسان کے کردار کا سب سے بڑا پیمانہ اس کا رویہ ہے۔ دنیا کا مال و دولت، شہرت و طاقت ایک طرف اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک ایک طرف۔ کیونکہ یہ چیز انسان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں عزت دیں، ہماری بات کو سنیں، ہمارے حق کو مانیں، تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ ایسا ہی کرنا ہوگا۔ یہ ایک زریں اصول ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو حقیقی سکون اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔امام حسن مجتبیٰ? کی یہ نصیحت دراصل انسان کو آئینہ دکھاتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سوچ لے کہ میں اپنی ذات کے لیے جو چاہتا ہوں، وہی دوسروں کے لیے بھی چاہوں گا تو وہ کبھی دوسروں کو دھوکہ نہیں دے گا، کبھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا، کبھی کسی کو کمتر نہیں سمجھے گا۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے گا اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی۔ یہی وہ معاشرتی ہم آہنگی ہے جس سے ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ وجود میں آتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ انسان کو بلند مرتبہ اخلاق ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ امام حسن? کی یہ تعلیم انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں وہ اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کی بھلائی کا سوچے۔ یہ تعلیم صرف کتابوں میں محفوظ رہنے کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ہے۔ اگر ہم اسے اپنی زندگی کا اصول بنا لیں تو یہ نہ صرف ہماری ذاتی زندگی کو سکون بخشے گا بلکہ پورے معاشرے کو ایک نئی روشنی دے گا۔اگر دنیا کے ہر فرد نے یہ اصول اپنا لیا تو زمین پر جنت کا منظر پیدا ہو جائے۔ محبت، اخوت اور عدل کے دریا بہنے لگیں گے، نفرت اور عداوت کی آگ بجھ جائے گی اور انسان اپنے اصل مقام کو پہچان لے گا۔ امام حسن مجتبیٰ? کا یہ قول رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک مینارہ نور ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنے میں ہے جو ہم اپنے ساتھ چاہتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان اور ایک بہترین معاشرہ بناتا ہے۔