جمہوریت کا خاموش قتل : مگر کیسے؟

عتیق چوہدری 
لیوتسکی اور زبلاٹ کی شہرہ آفاق کتاب "How Democracies Die" نے آج کی دنیا کا ایک بھیانک سچ بے نقاب کیا ہے کہ جدید دور کے آمر توپوں یا ٹینکوں کے ذریعے نہیں آتیبلکہ ووٹوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر آئینی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے جمہوری اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ جائزہ محض ایک علمی مفروضہ نہیں رہتابلکہ یہ ہماری قومی تاریخ کا ایک دردناک مرثیہ محسوس ہوتا ہے۔ جمہوریت کا خول یہاں چمکدار ضرور ہے مگر اس کی روح مدتوں سے زخمی اور مضمحل ہے۔مصنفین دو کلیدی غیر تحریری اصولوں کو جمہوریت کی بقا کا ضامن قرار دیتے ہیں باہمی برداشتاور ادارہ جاتی تحمل۔ بدقسمتی سے، ہماری سیاسی روایت میں ان دونوں اصولوں کی بنیاد ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ سیاست کو "حریفوں کا کھیل" سمجھنے کے بجائے اسے "دشمنوں کی جنگ" بنا دیا گیا ہے، جہاں مخالفین کو جائز حریف تسلیم کرنے کی بجائے انہیں غدار، بدعنوان یا ملک دشمن قرار دینا ہماری ثقافت کا لازمہ بن چکا ہے۔ جب یہ باہمی برداشت ختم ہوتی ہے تو ہر جماعت اقتدار میں آ کر دوسرے کو جڑ سے اکھاڑنے کے درپے ہو جاتی ہے۔ رہی سہی کسر ادارہ جاتی تحمل کی غیر موجودگی پوری کرتی ہے جہاں عدلیہ اور احتسابی اداروں کے اختیارات کو سیاسی انتقام کے لیے انتہا تک استعمال کیا جاتا ہے، جس سے جمہوری توازن اور غیر جانبداری کا تصور مٹ جاتا ہے۔عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جمہوریت کی درجہ بندی میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کی رپورٹ کے مطابق، سیاسی انتشار اور انتخابی مسائل کے باعث 2023 میں پاکستان کی جمہوریت کی درجہ بندی 3.25 سے کم ہو کر 2024 میں 2.84 رہ گئی۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے اعداد و شمار اور پلڈاٹکی سالانہ جائزہ رپورٹ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ 2024 میں جمہوریت شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ یہ سب ایک تسلسل کے ساتھ کیا گیا ہے،یہ خاموش یلغار آئینی، قانونی اور انتظامی طریقوں سے کی گئی جس میں مشکوک انتخابات، عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنا اور پارلیمانی قواعد کی پامالی شامل ہے۔پا کستا ن کی زیادہ تر سرکردہ سیاسی جماعتوں نے خواہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر اپنے وقتی سیاسی مفاد کیلئے ایک بار پھر سیاسی مخالفین کیخلاف افسوسناک اور غیر جمہوری رویہ جاری رکھا۔ عدم برداشت کا یہ رویہ جماعتوں کو سیاسی وانتخابی فوائد تو پہنچاتا ہیلیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری طرز حکمرانی کو شدید نقصان پہنچتا ہے،بارہویں عام انتخابات کے ذریعے مرکز اور صوبوں میں وجود میں آنیوالی موجودہ وفاقی اور صوبائی سیاسی حکومتیں بھی اسی طر ز پر عمل پیرا ہے۔جمہوریت کو اندر سے ختم کرنے کے لیے سب سے خطرناک ہتھکنڈا "ریفریوں پر قبضہ" ہے، جس کا سب سے بڑا مظاہرہ ہماری عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے کردار میں نظر آتا ہے۔ عدلیہ، جو آئین کی محافظ اور آخری پناہ گاہ ہے، وہاں سیاسی جنگوں کا میدان سجنا ایک لمح? فکریہ ہے۔ آئینی شقوں کی "نظری ضرورت" کے تحت من مانی تشریحات، من پسند ترامیم، اور احتسابی اداروں (نیب) کا سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال یہ سب جمہوری ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے کے مترادف ہے۔ جب ججوں کی تقرریوں یا اہم فیصلوں پر سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے ہیں تو عوام کا بنیادی اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے، اور ادارہ غیر جانبدار ریفری کی بجائے ایک سیاسی کھلاڑی کا تاثر دینا شروع کر دیتا ہے۔جمہوری زوال میں دوسرا اہم ہدف میڈیا ہوتا ہے۔ مقتدر قوتیں براہ راست سنسر شپ کے بجائے "مالیاتی دباؤ" اور "غیر رسمی روک ٹوک" کے ذریعے تنقیدی آوازوں کا گلا گھونٹتی ہیں۔ سرکاری اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرنااور من پسند چینلز کو نوازنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اس کے علاوہسائبر کرائم قوانین (PECA) کا استعمال اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بغیر کسی ٹھوس جواز کے بار بار بند کر دینا آزادی? اظہارِ رائے کی بنیادی ضمانتوں کو مجروح کرتا ہے۔ جب عوام کو سچائی کی بجائے صرف 'سرکاری بیانیہ' سننے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ حقائق سے دور ہو کر جمہوری زوال کے خلاف مؤثر رد عمل ظاہر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
"How Democracies Die" پاکستان کی قوم کے لیے ایک آئینی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر ہمیں ایک فعال اور پائیدار جمہوری ملک بننا ہے تو محض آئین کے صفحات تک محدود رہنے کی بجائے ہمیں ایک نئے اخلاقی معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کے لیے لازم ہے کہ: اولاً، سیاسی اشرافیہ باہمی برداشت کو واپس لائے اور حریفوں کو جائز تسلیم کرے۔ دوم، عدلیہ اور احتسابی اداروں کی مکمل خودمختاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ غیر جانبدار ریفری کا کردار ادا کر سکیں۔ سوم، صحافتی آزادیوں کا تحفظ یقینی ہو تاکہ میڈیا بطور 'نگرانِ اعلیٰ' اپنا فرض ادا کر سکے۔یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کا وجود آزاد صحافت کے بغیر ممکن نہیں۔ صحافی وہ آئینہ ہیں جن میں ریاست اپنی سچائی اور کمزوریاں دونوں دیکھ سکتی ہے۔ اگر یہ آئینہ ٹوٹ جائے تو شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے۔ چہارم، سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لے کر آئیں۔ پنجم، مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط کیا جائے۔ ششم، تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی سیاسی تربیت پر توجہ دی جائیاور تمام ادارے آئین میں لکھے گئے اپنے محدود کردار پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری مداخلت ختم کریں۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ تمام قیادت قلیل المدتی مفادات کو ترک کر کے جمہوری استحکام کو ملک کا اولین مقصد بنائے۔ بصورت دیگر ہماری جمہوریت بھی تاریخ کی کتابوں میں ایک ادھوری کہانی بن کر رہ جائے گی۔عوام کا جمہوریت میں اعتماد بحال کرنے لئے اس نظام کا ڈلیور کرنا ضروری ہے اگر نظام سے عام آدمی کو ریلیف نہیں مل رہا تو نظام کے خلاف نفرت کا لاوا ایک نہ ایک دن ضرور پھٹتا ہے۔حقیقی عوامی شراکتی جمہوریت کے لئیتمام سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا چاہئے جس میں تمام تصفیہ طلب مسائل کو زیر بحث لایا جائے اور ملکی مفاد میں ایک اور میثاق جمہوریت وقت کی ضرورت ہے اگر آج سیاست دان اکٹھے نہ ہوئے تو پھر حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ بہت سارے تجزیہ کار ابھی سے یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ناکام ہوگئی ہے لہذا چین کی طرز کا سسٹم لایا جائے جس میں محدود آزادیاں اور ایک پارٹی سسٹم ہو۔ دوسرا سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تنقید بھی روز بروز بڑھ رہی ہیان حالات میں ارباب اختیار و اقتدار کو سوچنا ہوگا کہ ملک میں جمہوری آزادیوں کو برقرار رکھنا اور عوام کا اعتماد بحال رکھنا اشد ضرورت ہے ورنہ راحت اندوری کے بقول
اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے


لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے